خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ ایک عورت ہی اس بات کو جانتی ہے کہ اکیلا پن کیا ہے۔ ناول کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت اکیلی نہیں رہ سکتی۔ فلمی دنیا کے ذریعہ بڑی بڑی کمائی کرنا اور اپنے لیے ایک خودمختار زندگی حاصل کرنا بظاہر بڑا پرکشش معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب عورت کی عمر زیادہ ہوتی ہے۔ جب اس کے ساتھیوں میں اس کے لیے کشش باقی نہیں رہتی تو وہ ایک ناقابل برداشت حادثہ سے دوچار ہوتی ہے۔ اس کے پاس دولت اور مادی سازوسامان کا انبار ہوتا ہے۔ مگر وہی چیز نہیں ہوتی جس کی ایک عورت کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یعنی زندگی کا چین۔ اس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے مگر وہ انسان نہیں ہوتا جو اس کے صبح و شام میں اس کا ساتھی بن سکے۔ وہ ایک ایسے آباد گھر کی مالک نہیں ہوتی جس کو وہ اپنا گھر سمجھے: یہ ایک تنہائی ہے جو خودمختار زندگی سے برآمد ہوتی ہے، ایک دیانت دارانہ فردیت، ایک ایسے سماج میں جہاں بددیانتی ہی سب سے بڑا نفع بخش سرمایہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کا نظام بے حد نازک ترکیب کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ اس میں ادنی تبدیلی بھی صرف بربادی پر ختم ہوتی ہے۔ جمادات اور نباتات کی دنیا کے لیے ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ کامیابی کا راز یہ ہے کہ فطرت کے بنائے ہوئے نظام سے انحراف نہ کیا جائے ۔ یہاں مطلوب نتیجہ تک پہنچنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ فطرت کے مقررہ ڈھانچہ کو قبول کیا جائے۔ مگر وہی انسان جو جمادات اور نباتات کے معاملہ میں اس حقیقت کی مکمل پابندی کرتا ہے وہ خود اپنی زندگی کے معاملہ میں اس ابدی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader