Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

بعد وہ اپنی غیر معمولی نسوانی کشش کی بنا پر فلم کی دنیا کی ہیرو بن گئی۔ اس کو جنسی دیوی (sex goddess) کہا جانے لگا۔ اس کی فلموں کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ جہاں کہیں اس کا کوئی ’’شو‘‘ ہوتا تو بے شمار تماشائی اس کو دیکھنے کے لیے جمع ہو جاتے۔ میر یلین مونرو کی آخری فلم بے جوڑ (The Misfits) تھی۔ فلم کا یہ عنوان گویا خود اس کی اپنی زندگی کا بھی عنوان تھا۔ وہ اپنے کو بے جگہ پا رہی تھی۔ انسانی سمندر کے درمیان وہ نفسیاتی طور پر تنہا ہو کر رہ گئی تھی۔ بظاہر اس کی ہنستی ہوئی تصویریں اخباروں اور رسالوں میں چھپتی تھیں ۔ مگر اندر سے وہ اپنے آپ کو مستقل طور پر افسردگی (depression) میں محسوس کرتی تھی۔ آخر کار وہ اس نفسیاتی عذاب کو برداشت نہ کر سکی۔ 5 اگست 1962 کو اس نے بیک وقت بہت سی گولیاں کھا کر خودکشی کر لی۔ موت کے وقت اس کی عمر صرف 36 سال تھی۔ اس قسم کی عورتوں کا عام حال یہ ہے کہ وہ اسٹیج پر خوش دکھائی دیتی ہیں مگر ان کا دل مستقل طور پر روتا ہے۔ ان کی زندگی بڑی مظلومی کی زندگی ہوتی ہے۔ وہ سب کی ہوتی ہیں مگر کوئی ان کا نہیں ہوتا۔ وہ دوسروں کو خوش کرتی ہیں مگر ان کو یہ احساس ستاتا رہتا ہے کہ کوئی نہیں جس کے ساتھ وہ اپنی خوشی کے لمحات گزار سکیں ۔ مجلسی تقریبات میں بظاہر ان کی شخصیت ایک معمور شخصیت دکھائی دیتی ہے مگر اپنی حقیقی دنیا میں وہ اپنے آپ کو بالکل خالی محسوس کرتی ہیں۔ ابتدائی شاندار زندگی آخر کار ایک غیر شاندار زندگی پر ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تنہائی کی زندگی عورت کے مزاج کے سراسر خلاف ہے۔ عورت تنہائی کا تحمّل نہیں کر سکتی۔ مگر مغربی تہذیب کا راستہ عورت کو آخر کار جہاں پہنچاتا ہے وہ یہی تنہائی کی زندگی ہے۔ اس کے برعکس، اسلام عورت کو ایک ایسی زندگی کی طرف لے جاتا ہے جہاں وہ تنہا نہیں ہوتی، بلکہ ایک پورے خاندان کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس سے یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page