Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

کے سامنے اس نے کبھی سکون محسوس نہیں کیا : She never really felt at ease in front of the camera. 39 سال کی عمر میں جب کہ وہ تقریباً پچاس کامیاب فلمیں بنا چکی تھی ، اس نے اچانک اپنا کیرئیر ختم کر دیا۔ وہ فلمی دنیا سے بالکل بے تعلق ہوگئی۔ اس نے اپنی شاندار رولس رائس کار فروخت کردی اور اپنے مکان میں تنہا رہنے لگی جہاں وہ ایک معمولی انسان کی طرح خاموش زندگی گزار سکے : "She sold her Rolls-Royce and went to live alone in her house on the Riviera," to cease to be considered a beautiful object and become a human being like any other." she said. حقیقت یہ ہے کہ گھر کے باہر کی دنیا میں ہیرو بنا اور ہر طرف شہرت حاصل کرنا عورت کی فطرت کے سراسر خلاف ہے۔ عورت فطری طور پر خانہ پسند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مصنوعی میدانوں میں شہرت پانے والی عورتیں اپنے کیرئیر کے درمیان میں یا اس کے آخر میں خانہ نشیں ہو جاتی ہیں۔ وقتی چمک دمک کے بعد بالآخر ان کو جہاں سکون ملتا ہے وہ ان کا گھر ہے، نہ کہ ان کا باہر۔ عورت کے بارے میں اسلام کا قانون عورت کی اسی فطرت کی رعایت ہے، نہ کہ عورت کے اوپر کوئی ظلم ۔ وہ مقام جہاں ایک عورت ناکام تجربہ کے بعد پہنچتی ہے، اسلام چاہتا ہے کہ وہ اپنے آزاد ارادہ کے تحت خود اپنے انتخاب کے ذریعہ وہاں پہنچے۔ میدانِ عمل سے محرومی مرد ہو یا عورت ہر ایک اپنے عمل کے لحاظ سے قیمت پاتا ہے۔ عورت کو مرد کے مساوی قرار دے کر جب گھر سے باہر لایا گیا تو اس کی قیمت اس میں تھی کہ وہ ان تمام شعبوں کو سنبھال لے جن کو مرد روایتی طور پر سنبھالے ہوئے تھا۔ یعنی وہ پائلٹ ، ڈرائیور، انجینئر،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page