خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
پروفیسر، ایڈمنسٹریٹر، پولیس آفیسر، فوجی کمانڈروغیرہ تمام حیثیتوں میں بالکل مرد کی طرح کام کرنے لگے۔ مگر حیاتیاتی اعتبار سے عورت کے اندر یہ صلاحیت نہیں۔ وہ ان شعبوں کو اس طرح سنبھال نہیں سکتی جس طرح مرد ان کو سنبھالے ہوئے ہے۔ عورت جب مردانہ شعبوں کو سنبھال نہ سکی تو اب سوال یہ تھا کہ وہ کیا کرے ۔ چنانچہ وہ ان شعبوں میں جمع ہونے لگی جن میں وہ اپنی نسوانیت کے اعتبار سے قیمت پا سکتی تھی، نہ کہ تمدنی کارکردگی کے اعتبار سے۔ مثلاً فلم ، ٹیلی ویژن، تفریحی مجلس، وہ اشتہاری صنعتیں جو عورت کی نسوانیت کو استعمال کرتی ہیں۔ مگر یہاں عورت کی دوسری کمزوری اس کی راہ میں حائل ہوگئی۔ ان شعبوں میں جوان عورت کی قیمت تھی اور عورت کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ ہمیشہ جوان رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عورت باہر نکل کر ایک قسم کی ادھوری شخصیت بن گئی۔ وہ صرف جوانی کے چند سالوں تک اپنے کو باقیمت ثابت کرسکی۔ جوانی کی مدت ختم ہونے کے بعد باہر کی زندگی میں اس کی کوئی قیمت نہیں رہی۔ مغربی ملکوں میں آزادی نسواں کی تحریک نے پردہ کو ختم کر دیا ہے۔ عورت اور مرد کے درمیان کوئی حد بندی باقی نہ رہی۔ تمام عورتیں سڑکوں اور بازاروں میں نکل آئیں ۔ اب جن عورتوں میں نسوانی کشش نسبتاً زیادہ ہو وہ فوراً لوگوں کی نظروں کے سامنے آ جاتی ہیں۔ وہ تیزی سے لوگوں کے درمیان مقبولیت حاصل کر لیتی ہیں۔ مگر یہ مقبولیت اس قیمت پر حاصل ہوتی ہے کہ وہ خاندانی زندگی سے دور ہو جاتی ہیں۔ وہ شادی کو بندھن سمجھ کر اس سے بے رغبت ہو جاتی ہیں۔ وہ گھر بنا کر اس میں رہنے کے بجائے محفل کی رونق بننا زیادہ پسند کرتی ہیں۔ مگر یہ پُر رونق لمحات بے حد وقتی ہوتے ہیں۔ جوانی کی خاص عمر تک ان عورتوں کو استعمال کیا جاتا ہے، اس کے بعد انھیں نارنگی کے چھلکے کی طرح پھینک دیا جاتا ہے۔ مقبول شخصیت بالآخر خود اپنے ماحول میں غیر مقبول شخصیت بن کر رہ جاتی ہے۔ مغربی تہذیب میں صرف ” جوان عورت “ کے لیے جگہ ہے۔ ”بڑھی عورت “ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader