خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 124
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے مغربی تہذیب میں کوئی جگہ نہیں۔ مغربی تہذیب میں ایک عورت اپنی نسوانی کشش کی بنیاد پر جگہ حاصل کرتی ہے۔ بڑھاپے میں یہ نسوانی کشش ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے مغربی عورت بوڑھی ہونے کے بعد اپنا مقام بھی کھو دیتی ہے۔ " جو شخص ذمہ داری قبول نہ کرے اس کو حقوق میں بھی حصہ نہیں ملتا۔ " یہ مقولہ اپنی بدترین شکل میں مغربی عورت کے حق میں صادق آیا ہے۔ خاندان سے وابستہ ہو کر جو زندگی بنتی ہے۔ اس کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ خاندان میں ایک عورت " بیوی " کی حیثیت سے اپنی زندگی شروع کرتی ہے۔ یہاں اس کو اپنے عمل کا بھر پور میدان مل جاتا ہے۔ اس کا گھر ایک پوری مملکت ہوتا ہے جس کو وہ سنبھالتی ہے اور جس کی وہ تنہا انچارج ہوتی ہے۔ یہاں اس کی کارکردگی سے اس کی تاریخ بنتی ہے جو آخر وقت تک اس کا ساتھ دیتی ہے ہر اگلا دن یہاں اس کے عزت و احترام میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ وہ " ماں " بنتی ہے۔ پھر وہ نانی اور دادی بنتی ہے۔ حتیٰ کہ خود اپنے شوہر کی نظر میں اس کی قیمت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ عورت جوانی کی عمر میں بیوی ہوتی ہے اور بڑھاپے کی عمر میں وہ ماں کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ عورت کی یہ حیثیت بالکل فطری ہے۔ چنانچہ خود مغربی دنیا میں جو افراد ازدواجی دائرہ میں رہ کر زندگی گزارتے ہیں، ان کے یہاں بھی فطرت کے زور پر عورت یہی حیثیت حاصل کر لیتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک سبق آموز مثال امریکا کے صدر رونالڈ ریگن کی ہے۔ چنانچہ ایک امریکی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسٹر ریگن اپنی بیوی سے بہت زیادہ وابستہ ہیں۔ وہ ان کو " ماں " کہتے ہیں جب کہ وہ عوام سے دور ہوتے ہیں۔ یہ بات ان کے قریبی رفیقوں نے بتائی: "Mr. Reagan is known to be deeply attached to his wife,

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader