خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 125
By Maulana Wahiduddin Khan
whom he calls ‘mommy’ away from the public, according to their close associates." (Hindustan Times, October 18, 1987, p. 1) اس طرح عمر بڑھنے کے ساتھ گھر کے اندر عورت کا وقار بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ گھر کی مالکہ کی حیثیت حاصل کر لیتی ہے۔ خاندان کسی عورت کی وہ دنیا ہے جواول سے آخر تک اس کا ساتھ دیتی ہے۔ جب کہ مغربی تہذیب کا حال یہ ہے کہ وہ زندگی کے چند سالوں میں عورت کی ساتھی ہے، وہ اس کی عمر کے طویل تر حصہ میں عورت کی ساتھی نہیں۔ مغربی زندگی میں عورت اپنی جوانی کے چند سال کے بقدر قیمت پاتی ہے اور خاندانی زندگی میں اپنی پوری عمر تک۔ جاپان کی مثال جاپان کی عورتوں کے بارے میں ایک رپورٹ اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں دکھا یا گیا ہے کہ جاپان میں اگر چہ 15 ملین کارکن خواتین موجود ہیں۔ مگر یہ زیادہ تر معمولی کاموں میں مصروف ہیں۔ وہ اپنے مرد افسروں (male superiors) کی مددگار کے طور پر کام کرتی ہیں۔ 36 سال بعد دو خواتین جاپانی کابینہ میں لی گئی ہیں۔ وہ بھی زیادہ تر متحدہ اقوام کے موسم خواتین کی رعایت سے جو 1985 میں ختم ہو رہا ہے۔ جاپان میں اس وقت 608 ڈپلومیٹ ہیں ۔ ان میں خواتین کی تعداد صرف 12 ہے۔ جاپان آج بھی بنیادی طور پر مردوں کا سماج (male-dominated society) ہے۔ رپورٹ میں جاپان کی موجودہ خاتون وزیر کے یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں: “A bill, yet to be passed by the parliament on ending discrimination against women, is considered by many of its male critics to be reverse discriminatory.”

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader