Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

عورتوں کے خلاف امتیاز کو ختم کرنے والا ایک بل جاپانی پارلیمنٹ میں ہے مگر وہ اب تک پاس نہ ہوسکا۔ اکثر مرد ناقدین اس بل کو برعکس امتیاز پیدا کرنے والا اقدام سمجھتے ہیں (انڈین ایکسپریس، 24 نومبر 1984)۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ عورتوں کی مساوی شرکت کے بغیر قومی ترقی نہیں ہوسکتی انھیں اس واقعہ سے نصیحت لینا چاہیے ۔ جاپان دورِ جدید کا انتہائی ترقی یافتہ ملک ہے۔ مگر یہ ترقی اس کو اس کے بغیر حاصل ہوتی ہے کہ اس نے اپنی خارجی سرگرمیوں کے تمام میدانوں میں عورتوں کو برابر کے شریک کی حیثیت سے داخل کر دیا ہو۔ قدیم زمانہ میں عورت اور مرد کے کام کا دائرہ الگ الگ سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ زمانے میں حد بندی کو ختم کر دیا گیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ اس سے ترقی کی رفتار تیز ہوگی۔ مگر تجربے نے بتایا کہ تقسیمِ عمل کے قدیم نظام کو توڑنے کا کوئی فائدہ تمدنی ترقی کے اعتبار سے نہیں ہوا۔ جن ملکوں میں عورت اور مرد دونوں کو زندگی کے ہر میدان میں برابر کا شریک قرار دیا گیا ہے وہاں میں بھی عملاً زندگی کے تمام ترقیاتی کام مردوں ہی کے ہاتھ میں ہیں، نہ کہ عورتوں کے ہاتھ میں۔ جاپان کی مذکورہ مثال بھی اس کی تردید کرتی ہے۔ جاپان پورے معنوں میں دورِ جدید کا ایک ترقی یافتہ ملک ہے مگر وہاں کا سماج ابھی تک قدیم انداز کے مطابق مردوں کے غلبہ کا سماج ہے۔ جاپان کی مثال ثابت کرتی ہے کہ ترقی کے لیے عورتوں کی مفروضہ مساوی شرکت ضروری نہیں۔ ایک امریکی خاتون شرمن بیبیئر (Sharmon Babior) نے اس معاملہ میں جاپان اور امریکا کے فرق کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں سمجھتی کہ امریکی عورت اس جاپانی نقطہ نظر کو برداشت کر سکتی ہے کہ شوہر اپنے گھر کا حا کم ہے: “I don't think American women would tolerate the “Teishukanpaku” (the husband is the ruler of his home) behaviour.” (The Times of India, New Delhi, December 1, 1987)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page