Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

تہذیب جدید کے نتائج ’’مغربی سماج میں اگر بگاڑ ہے تو مسلمانوں کے موجودہ سماج میں بھی بگاڑ ہے۔ اس کے باوجود آپ مغربی تہذیب کو غلط اور اسلام کو صحیح کیسے کہتے ہیں‘‘ ایک شخص نے کہا۔ مگر یہ اعتراض درست نہیں۔ اس لیے کہ جس اعتبار سے ہم مغربی تہذیب اور اسلام کے درمیان تقابل کر رہے ہیں اس میں دونوں کے درمیان ایک واضح فرق ہے۔ مسلم سماج کا بگاڑ اسلام سے انحراف کا نتیجہ ہے ۔ جب کہ مغربی سماج کا بگاڑ عین اس کے اصولوں پر عمل کرنے کا نتیجہ۔ مسلمانوں کے درمیان جو بگاڑ ہے وہ اصول اور عمل کے درمیان فرق ہو جانے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ جب کہ مغربی سماج کا بگاڑ اصول اور حقیقتِ واقعہ کے درمیان ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔ جدید مغربی تہذیب نے معاشرتی زندگی کے بارے میں مذہبی اصولوں کے بالمقابل کچھ دوسرے اصول وضع کیے ۔ اور قدیم اصول کے مقابلہ میں جدید اصول کی معقولیت کا دعویٰ کیا۔ اس کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ زمین کے قابل لحاظ حصے پر مغربی اقوام کا سیاسی اور مادی غلبہ قائم ہوگیا۔ انھیں یہ حیثیت حاصل ہوگئی کہ وہ قدیم اصول حیات کو رد کر کے جدید اصولِ حیات کی بنیاد پر انسانی معاشرہ کی تشکیل کریں۔ مغربی اقوام کے غلبے کے ساتھ ہی یہ عمل شروع ہو گیا۔ اب اس تجربہ پر 100 سال سے زیادہ مدت گزر چکی ہے۔ مگر عملی تجربہ اصول کی صداقت کو ثابت نہ کر سکا۔ اس تجربہ نے نہ صرف یہ بتایا کہ مغرب نے انسانی زندگی کے جو نئے اصول وضع کیے تھے وہ فطرت سے مطابقت نہ رکھتے تھے۔ اصول اور حقیقتِ واقعہ کا یہ ٹکراؤ بہت جلد ظاہر ہوگیا۔ مغربی زندگی میں شدید قسم کی ابتری پیدا ہوگئی جس میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page