خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلم سماج میں آج جو بگاڑ پایا جاتا ہے اس کا حل یہ ہے کہ مسلم سماج کو سابقہ اسلامی اصولوں کی طرف لوٹایا جائے۔ مگر یہی بات مغرب کے بارے میں نہیں کہی جاسکتی۔ مغرب کا سماج اگر پیچھے کی طرف لوٹایا جائے تو اس کا لوٹنا عین انھیں اصولوں کی طرف لوٹنا ہوگا جن پر آج بھی وہ پوری طرح قائم ہے۔ جن لوگوں نے آزادانہ جنسی اختلاط کا نظریہ پیش کیا جنہوں نے عورت کو ہر مردانہ شعبہ میں داخل کرنے پر اصرار کیا یا جنھوں نے یہ کہا کہ نکاح کا ادارہ ایک غیر ضروری بندھن ہے۔ وہ آخر اپنے اصولوں کی طرف لوٹیں تو کس چیز کی طرف لوٹیں گے۔ وہ اسی چیز کی طرف لوٹیں گے جس پر آج بھی وہ قائم ہیں اور جس کے ہولناک نتائج سے وہ بالفعل دوچار ہورہے ہیں مسلمانوں کے بگاڑ کا حل یہ ہے کہ وہ اسلام کے چھوڑے ہوئے اصول کو دوبارہ اختیار کریں۔ جب کہ مغربی معاشرہ کے بگاڑ کا حل یہ ہے کہ وہ اپنے اختیار کردہ اصول کو ترک کردے۔ اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے یہاں ہم کچھ واقعاتی مثالیں پیش کریں گے۔ الٹی طرف سفر امریکہ کا انگریزی ہفتہ وار ٹائم (Time) نہایت کثیر الاشاعت میگزین ہے۔ وہ 95 ملکوں میں پڑھا جاتا ہے۔ اس میگزین نے اپنی اشاعت 26 جنوری 1987 میں امریکہ کے بارے میں ایک دل چسپ رپورٹ شائع کی ہے۔ یہاں ہم اس کا خلاصہ درج کرتے ہیں۔ پچھلے 25 سال کے اندر امریکہ میں خاتون کارکنوں کی تعداد بہت بڑھی ہے۔ امریکہ میں اس وقت بچہ پیدا کرنے کی عمر کی خواتین کی 65 فی صد تعداد دفتروں میں کام کرتی ہے۔ ان میں سے 90 فی صد عورتیں وہ ہیں جو کارکردگی کے دوران حاملہ پائی گئی ہیں۔ عورتوں کے لیے یہ زبردست مسئلہ ہے۔ کام کا بھاری بوجھ اٹھانا اور اسی کے ساتھ بیک وقت بچوں کی ماں بننا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader