خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
”This has created a tremendous problem for women: the onerous task of holding down a job and having children at the same time.“ اسی قسم کی ایک امریکی خاتون لیلین گارلینڈ (Lillian Garland) ہے۔ وہ کیلی فورنیا کی ایک کمپنی میں بطور رسیپشنسٹ کام کر رہی تھی۔ ملازمت کے دوران وہ حاملہ ہوگئی۔ چنانچہ اس نے 1982 میں عارضی طور پر دفتر سے چھٹی لے لی۔ اس کے یہاں بچی پیدا ہوئی ۔ ڈاکٹر نے اس کو مشورہ دیا کہ وہ تین مہینہ تک دفتر نہ جائے ۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ مگر تین مہینے کے بعد جب وہ دوبارہ دفتر آئی تو اس کو بتایا گیا کہ اب کمپنی میں اس کے لیے جگہ نہیں ہے۔ اس کی جگہ دوسرے کارکن کے ذریعہ پر کر لی گئی تھی۔ گارلینڈ نے 850 ڈالر ماہانہ کی سروس کھودی۔ وہ ایسے وقت میں بے روزگار ہوگئی جب کہ بچی کی پیدائش کے نتیجے میں اس کے اخراجات کافی بڑھ چکے تھے۔ اس نے امریکا کی فیڈرل کورٹ میں اپیل کی کہ کمپنی نے اس کو ملازمت سے برخواست کر کے اس کے ساتھ امتیاز (discrimination) کا برتاؤ کیا ہے۔ مقدمہ چلتا رہا۔ گارلینڈ کے وکیل اور کمپنی کے وکیل نے ایک دوسرے کے خلاف دلائل پیش کیے ۔ یہاں تک کہ پانچ سال بعد جنوری 1987 میں امریکی سپریم کورٹ کے جسٹس تھرگڈ مارشل (Thurgood Marshall) نے فیصلہ دیا کہ خاتون کارکن اگر حاملہ ہو جائے تو جس ادارہ میں وہ کام کر رہی ہے اس کو چاہیے کہ وہ اس کو چار مہینہ کی باضابطہ رخصت دے۔ اس فیصلے نے امریکا میں زبردست بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف آزادی نسواں کی حامی دوسری طرف امریکا کے سنجیدہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ فیصلہ خواتین کے لیے مضر ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ اس قسم کا تحفظ صرف خواتین کے حق میں امتیاز کو بڑھانے والا ثابت ہوتا ہے۔ یہ تدبیر ایسی ہے جو ہمیشہ الٹا نتیجہ ظاہر کرتی ہے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader