Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

“That almost always backfires.” لاس اینجلس کی مرچنٹس اینڈ مینوفیکچررس ایسوسی ایشن کے صدر مسٹر ڈون بٹلر (Don Butler) نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک مہلک فیصلہ ہے۔ اگر کمپنیوں کو اس طرح حاملہ خواتین کو چار مہینہ کی باضابطہ رخصت دینی پڑی تو وہ دیوالیہ پن (Bankruptcy) شکار ہو جائیں گی۔ امریکی چیمبر آف کامرس کے اٹارنی لیمپ (Attorney Lamp) نے کہا کہ اس طرح عورت کے خلاف امتیاز اور بڑھ جائے گا۔ اس لیے کہ بہت سی کمپنیاں یہ نہ چاہیں گی کہ وہ بچہ پیدا کرنے کی عمر میں عورتوں کو اپنے یہاں ملازم رکھیں: “Discrimination against women might increase. Many companies just won’t hire women in their childbearing years,” says the Chamber’s Attorney Lamp. (p.21). گارلینڈ کے مذکورہ معاملہ کی حمایت میں ایک مشہور خاتون لیڈر بیٹی فریڈان (Betty Friedan) نے کہا کہ عورت اور مرد کے درمیان برابری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورتیں مردوں کے نمونہ پر پوری اتریں: “Equality does not mean that women have to fit the male model.” یہ دلیل بھی کیسی عجیب ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب عورتیں اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے اتنی مختلف ہیں کہ وہ مردوں کے ”ماڈل“ کے مطابق نہیں بن سکتیں تو اس عجیب وغریب صنفی برابری کی کیا ضرورت ہے کہ عورتوں کو مردوں کی طرح ہر جگہ کام کے لیے کھڑا کر دیا جائے ۔ اور پھر جبری قوانین کے ذریعہ اس مصنوعی برابری کو قائم رکھا جائے۔ اسی طرح سلویا این ہیولٹ (Sylvia Ann Hewlett) نے کہا کہ امریکا کی عدالت عالیہ کے اس فیصلہ کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ ترین قانونی سطح پر اس حقیقت کا اعتراف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page