خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 131
By Maulana Wahiduddin Khan
کر لیا گیا کہ عورتوں کو دفاتر میں برابری کا مقام دلانے کے لیے ایک خاندانی سپورٹر کو وجود میں لانا ہوگا: یہ قدیم روایتی نظام کی معقولیت کا بالواسطہ اعتراف ہے۔ جدید تہذیب نے یہ معیار پیش کیا تھا کہ مرد کو عورت کا سپورٹر نہ ہونا چاہیے۔ بلکہ عورت خود کمائے اور خود اپنی سپورٹر بنے۔ مگر جب اس اصول کو عمل میں لایا گیا تو معلوم ہوا کہ عورت سپورٹر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے اس سپورٹر کا نام ”شوہر“ تھا اور اب اس سپورٹر کا نام ”کمپنی“ ہے۔ قدیم روایتی ماحول جو مذہب کے زیر اثر بنا تھا۔ اس میں مرد بنیادی طور پر باہر کا کام کرتے تھے اور عورتیں بنیادی طور پر گھر کا کام۔ یہ دراصل ایک طرح کی تقسیم کار تھی۔ مگر جدید تہذیب نے اس کے متعلق کہا کہ یہ ایک صنف اور دوسری صنف کے درمیان امتیاز ہے ۔ چنانچہ زور و شور کے ساتھ آزادی نسواں کی تحریک چلی۔ عورتوں کو گھروں سے نکال کر دفتروں اور کارخانوں میں ڈال دیا گیا۔ مگر بہت جلد معلوم ہوا کہ اس نئے نظام میں مختلف قسم کی رکاوٹیں حائل ہیں۔ مثال کے طور پر عورت کا معاملہ یہ ہے کہ وہ حاملہ ہوتی ہے۔ وہ بچہ پیدا کرتی ہے اور پھر ایک مدت تک وہ باہر کے کام کے قابل نہیں رہتی ۔ اس مشکل کے حل کے لیے قانون بنایا گیا کہ عورت کو حمل اور رضاعت کے دوران خصوصی چھٹی دی جائے۔ مگر اس قسم کا لفظی کھیل صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جو قانون ساز مجالس میں بیٹھ کر قانون بناتے ہیں۔ اس اصول کا تحمل وہ لوگ نہیں کر سکتے جن کو عملاً ایک کارخانہ چلانا ہے۔ یا ایک دفتر کا انتظام کرنا ہے۔ چنانچہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader