خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 132
By Maulana Wahiduddin Khan
اب مالکوں اور خاتون ملازموں کے درمیان لامتناہی جھگڑے چھڑ گئے ہیں۔ حکومتی ادارہ اب تک اس نزاع میں بظاہر خواتین کا ساتھ دے رہا ہے تا کہ اس کے تہذیبی اصول کی عظمت باقی رہے۔ مگر حقیقت کے خلاف یہ جانب داری قابل عمل نہیں۔ حکومت اگر دفتروں اور کارخانوں سے کہے کہ وہ خاتون کارکنوں کو ”چار ماہ“ کی با تنخواہ چھٹی دیں تو کون ادارہ اس تہذیبی تعیش کو برداشت کر سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اداروں میں یہ رجحان بڑھے گا کہ جوان عورتوں کو ملازمت میں نہ لیا جائے اور جب عورتیں بوڑھی ہو چکی ہوں گی تو وہ اپنے آپ ملازمتوں میں جانے سے رک جائیں گی۔ اس طرح مغربی سوسائٹی میں وہی چیز شدید تر صورت میں پیدا ہو جائے گی جس کو ختم کرنے کے لیے آزادی نسواں کی تحریک چلائی گئی تھی، یعنی صنفی امتیاز۔ مایوسی کا شکار 12-16 جنوری 1987 کونئ دہلی (وگیان بھون) میں ایک کانفرنس ہوئی۔ اس میں پندرہ ملکوں کے فلسفی، سائنٹسٹ، مصنف اور آرٹسٹ شریک ہوئے۔ اس پانچ روزہ کانفرنس کا عنوان تھا: نئے آغاز کی طرف: Towards New Beginning اس کانفرنس کا اہتمام مرکزی حکومت ہند نے کیا تھا۔ اس عالمی کانفرنس میں مغربی دنیا کی کئی ممتاز خواتین بھی شریک ہوئیں جواب بڑھاپے کی عمر میں ہیں اور انھوں نے اپنی پوری زندگی آزادی نسواں کی تحریک چلانے میں گزاری ہے۔ مگر اب وہ مایوسی کا شکار ہیں۔ آسٹریلیا کی جرمین گریر (پیدائش 1939) جو بین اقوامی شہرت کی مالک ہیں، ان کے بارے میں انڈین اکسپریس (14 جنوری 1987) کے نامہ نگار کے الفاظ یہ ہیں کہ آج کل وہ بہت دھیمی نظر آتی ہیں ان کا وہ جوش جو فینمیل یونگ (1970, The Female Eunuch) نامی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader