Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 137

By Maulana Wahiduddin Khan

محبت اور توجہ پانے سے محروم تھی، مجھے محبت کی ضرورت تھی، مگر مجھے کبھی اپنے والد ین کی محبت نہ مل سکی (میرے اس حال کے باوجود) گھر کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اور میں پندرہ سال کی عمر میں حاملہ ہو گئی۔ میرے دوست لڑکے نے مجھ کو ملازم ٹھہرایا اور مجھ کو چھوڑ دیا۔ کوئی صورت میرے لیے باقی نہ رہی۔ میں پھنس کر رہ گئی۔ چنانچہ میں نے حمل ساقط کرا لیا۔ اب میں کسی لڑکے سے تعلق قائم کرنے سے ڈرتی ہوں۔ ہر رات کو میں روتی رہتی ہوں یہاں تک کہ سو جاتی ہوں۔ (امریکہ میں ہر دو منٹ میں ایک کم عمر لڑکی حاملہ ہو جاتی ہے)۔ پلین ٹروتھ کے مذکورہ شمارہ میں نیو یارک کے اخبار نویس جارج ڈون کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں 15 سے 19 سال کے درمیان کی ہر ایک ہزار لڑکیوں میں 96 لڑکیاں حاملہ پائی گئی ہیں۔ (صفحہ 6) یہ انجام ہے فطرت سے انحراف کرنے کا۔ اللہ تعالی نے انسان کو مرد اور عورت کی شکل میں بنایا۔ پھر مرد اور عورت کے تعلق کا ایک نظام مقرر کیا۔ وہ نظام یہ ہے کہ مرد اور عورت ایک خاص عمر کو پہنچ کر نکاح کر لیں۔ پھر وہ مل کر ایک گھر بنائیں۔ اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش کریں۔ اس طرح انسانی نسل چلائی جائے ۔ مگر جدید مغرب نے آزادی کے تصور کو اتنا بڑھایا کہ عورت اور مرد کے باہمی تعلق کو بھی ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد کر دیا۔ اس نتیجہ میں مغرب کے معاشرہ میں بے شمار خرابیاں پیدا ہو گئیں جن میں سے ایک وہ ہے جس کی ایک مثال اوپر کے واقعہ میں نظر آتی ہے۔ عورت اور مرد کے درمیان آزادانہ اختلاط اور بے قید تعلق فطرت کے سراسر خلاف ہے۔ صنفی معاملہ میں عورت " وحدت " کو پسند کرتی ہے۔ جب کہ مرد کا معاملہ طبعاً کسی قدر مختلف ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آزادانہ صنفی تعلق وفادارانہ صنفی تعلق میں مانع بن جاتا ہے جو مرد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page