خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
سے زیادہ عورت کے لیے نفسیاتی ہلاکت کے ہم معنی ہے۔ اس کی سب سے زیادہ قیمت عورت کو بھگتنی پڑتی ہے۔ آسٹریلیا کی مشہور آزادی پسند خاتون مس جرمین گریر (Ms Germaine Greer) نے بڑی عمر کو پہنچ کر یہ اعتراف کیا ہے کہ نوجوانی کی عمر میں آزادی نسواں کے لیے ان کا جوش و خروش حقیقت پسندانہ نہ تھا۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا: “What is worrying today is the results of the sexual liberation movement—the number of teenaged girls who have been on the pill since they were 12 and 13, the number of teenaged girls who get pregnant by the time they are 15 and 16. What is happening to them? Sex means something quite different for men. They can love and leave. When the time comes to go to university, they can take off quite easily. Women have a different sensibility. They love with their heads, hearts and loins. And a broken love affair leaves them quite shattered. I have seen it happen to people close to me. And it is terrible." (Indian Express, 14 January, 1987) آج جو چیز پریشان کن ہے وہ آزاد صنفی تحریک کے نتائج ہیں۔ کم عمر لڑکیاں جو 12 اور 13 سال کی عمر سے مانع حمل گولیاں استعمال کرنے لگتی ہیں اور وہ لڑکیاں جو 15 اور 16 سال کی عمر میں حاملہ ہو جاتی ہیں، ان کے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔ صنفی تعلق مرد کے لیے کافی مختلف معنی رکھتا ہے۔ وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ محبت کریں اور چھوڑ دیں۔ جب یونیورسٹی جانے کا وقت آتا ہے تو وہ نہایت آسانی سے روانہ ہو سکتے ہیں۔ عورتیں مرد سے مختلف حساسیت رکھتی ہیں۔ وہ اپنے دماغ، اپنے دل اور اپنے وجود کے ساتھ محبت کرتی ہیں۔ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader