خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹوٹا ہوا محبت کا رشتہ انہیں بالکل توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ میں یہ بات اپنے قریب کے لوگوں میں ہوتے ہوئے دیکھی ہے۔ اور یہ دہشت ناک ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی سوسائٹی میں بھی بگاڑ پایا جاتا ہے اور مغرب کی سوسائٹی میں بھی۔ مگر دونوں میں ایک فرق ہے۔ مسلمانوں کا بگاڑ اسلامی اصولوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ جب کہ مغربی سماج کا بگاڑ خود ان کے اصولوں پر عمل کی پیدا وار ہے۔ مصنوعی مسائل کیلی فورنیا کے ایک کرور پتی رابرٹ گراہ (Dr. Robert Graham) نے ایک انوکھا بینک قائم کیا۔ اس کا نام انھوں نے نوبیل اسپرم بینک (Nobel Sperm Bank) رکھا۔ اس ”بینک“ میں نوبیل انعام یافتہ افراد کے مادۂ منویہ کو حاصل کر کے محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے عورتوں کو بار آور کیا جائے اور زیادہ اعلیٰ ذہانت (above-average intelligence) والے بچے پیدا کیے جائیں۔ بانی کا کہنا تھا کہ یہ بینک اس نے اہل شوہروں (infertile husbands) کے لیے قائم کیا ہے۔ تاہم جدید خواتین کی اباحیت پسندی اس پابندی کو ختم کر رہی ہے۔ بہت سی خواتین نکاح کے بغیر بچہ پیدا کرنا چاہتی ہیں، نیز وہ چاہتی ہیں کہ ان کی اولاد اعلیٰ استعداد کی مالک ہو، ایسی خواتین آزادانہ طور پر اس بینک کی خدمات حاصل کر رہی ہیں۔ انھیں خواتین میں سے ایک کیلی فورنیا کی ڈاکٹر آفتن بلیک (Afton Blake) ہے۔ اس کی عمر اس وقت 44 سال ہے۔ اس نے مذکورہ نوبیل اسپرم بینک سے رابطہ قائم کیا۔ وہ اپنے لیے جس قسم کی اولاد چاہتی تھی، اس کے مطابق اسے مشورہ دیا گیا کہ وہ ”نمبر 28“ کا مادہ حاصل کرے۔ واضح ہو کہ اس بینک میں جن لوگوں کے مادۂ منویہ جمع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader