خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
آزادانہ جنسی تعلق (promiscuity) ہے۔ اسی بنا پر اس مرض کو رندی کا مرض (gay disease) کہا جاتا ہے۔ یہ مرض بہت تیزی سے پھیلتا ہے۔ چنانچہ اس نے جدید دنیا میں جیومیٹرک انتشار (geometric explosion) کی صورت اختیار کرلی ایڈز کی ہلاکت خیزی کو دیکھ کر ایک مبتلائے مرض نے کہا: “Oh, what will happen in this world, if we have to die when we make love? AIDS is the century’s evil.” (p.32) آہ، اس دنیا کا کیا ہوگا اگر ہمارا حال یہ ہو جائے کہ ہم کو محبت کرنے کے لیے مرجانا پڑے ۔ ایڈز اس صدی کی آفت ہے۔ آزادانہ جنسی تعلق، جس کو مغرب میں خوبصورت طور پر آزادانہ محبت کہا جاتا ہے، وہ اب لوگوں کے لیے عذاب بنتا جارہا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 1991 تک امریکا میں 270,000 افراد اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہوں گے۔ جن کا علاج کرنا امریکی ڈاکٹروں کے قابو سے باہر ہو جائے گا۔ چنانچہ حکومت کی طرف سے جو مخالف ایڈز مہم (Campaign Anti-AIDS) چلائی جارہی ہے، اس کا خاص نعرہ ہے ۔ احتیاط کے ساتھ محبت کیجیے : “Love Carefully.” ”احتیاط کے ساتھ محبت کیجیے“ کی نصیحت کو اگر ہم لفظ بدل کر کہیں تو وہ یہ ہوگی کہ نکاح کے ساتھ محبت کیجیے، بے نکاح محبت کا طریقہ چھوڑ دیجیے۔ ڈی ایچ لارنس (D.H. Lawrence) کا ناول ”لیڈی شیٹرلی کا محبوب“ (Lady Chatterly's Lover) پہلی بار 1928 میں چھپا۔ اس میں آزادانہ جنسی تعلق کی وکالت کی گئی تھی۔ اس وقت اس ناول کو فحش سمجھا گیا اور جلد ہی اس کو بند (ban) کر دیا گیا۔ اس کے بعد حالات بدلے اور 1959 میں دوبارہ اس ناول کو چھاپنے اور فروخت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader