Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

کرنے کی قانونی اجازت دے دی گئی۔ اس ناول نے امریکی نوجوانوں پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کے اندر آزادانہ جنسی تعلقات عام ہو گئے۔ مگر اب دوبارہ آواز اٹھ رہی ہے کہ اس ناول پر پابندی لگائی جائے۔ یہ ایڈز کا کرشمہ ہے۔ آزادانہ جنسی تعلقات نے ایڈز کی پر اسرار مگر حد درجہ مہلک بیماری پیدا کی ہے۔ اور اب مغرب کے لوگ مجبور ہو رہے ہیں کہ آزادانہ جنسی تعلق کے بارے میں اپنے خیالات پر نظر ثانی کریں۔ (صفحہ 24) ٹائم کے الفاظ میں، ہر جنسی ترغیب پر دوڑنے والے لوگ، جلد یا بدیر، جنسی احتیاط اور پابندی کے ایک نئے دور کی حقیقت سے دوچار ہوں گے : “Swingers of all persuasions may sooner or later be faced with the reality of a new era of sexual caution and restraint.” (p. 24). مذکورہ تبصرے کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ فطرت کے حقائق انسان کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ آزادانہ جنسی تعلق کے طریقہ کو چھوڑ دے اور پابند جنسی تعلق کے طریقہ کو اختیار کرے۔ شریعت خداوندی میں عورت اور مرد کے درمیان جنسی تعلق کو نکاح کی قید کے ساتھ وابستہ کیا گیا تھا۔ مگر موجودہ زمانے کے آزادی پسند لوگوں نے کہا کہ یہ انسان کے اوپر غیر ضروری قسم کی پابندی ہے۔ اس سلسلے میں بے شمار لٹریچر شائع کیا گیا۔ یہاں تک کہ مغربی ممالک میں آزادانہ جنسی تعلق ایک عمومی رواج کی صورت اختیار کر گیا۔ لوگ خوش تھے کہ انھوں نے شریعت اور مذہب کی پابندی سے آزاد ہو کر لامحدود عیش کا راز دریافت کر لیا ہے۔ مگر بیسویں صدی کے ربع آخر میں پہنچ کر آزادانہ جنسی تعلق نے نئے نئے امراض پیدا کر دیے ۔ اور بالآخر ’’ایڈز‘‘ کی مہلک بیماری نے لوگوں کو یہ ماننے پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page