Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

مجبور کر دیا کہ شریعتِ خداوندی کا طریقہ ہی فطری طریقہ ہے۔ اس کے مقابلہ میں آزادانہ جنسی تعلق انسانی صحت کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹائم میگزین کے مذکورہ شمارہ (صفحہ 24) میں ایک مرد اور ایک عورت کو اس حال میں دکھایا گیا ہے کہ ان کو ایک خوفناک سانپ نے چاروں طرف سے لپیٹ لیا ہے۔ قرآن میں ہدایت کی گئی تھی کہ عورتوں کے ساتھ جنسی تعلق قید نکاح میں لا کر کرو، نہ کہ بدکاری کے طور پر کرنے لگو: مَّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ (5:5) - مفسرین نے قرآن کی اس آیت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے کہ عورتوں کے ساتھ نکاح کے ذریعہ تعلق قائم کرو نہ کہ زانی بن کر ( مُتَّخِذِيْ خُدْنٍ غَيْرَ زَانِيْنِ ) ۔ تجربات نے بتایا کہ یہی طریقہ صحیح فطری طریقہ ہے۔ مناکحت اور مسافحت (بدکاری) میں اتنا زیادہ فرق ہے کہ ایک اگر زندگی ہے تو دوسرا موت ایک طریقہ انسانی سماج کے لیے رحمت ہے تو دوسرا طریقہ انسانی سماج کے لیے عذاب۔ ٹائمس آف انڈیا (19 مارچ 1987) نے ایڈزروک (AIDS Check) کے عنوان کے تحت ایک امریکی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کی حکومت نے اپنے شہریوں کو بعض تدبیریں اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے جس کے ذریعہ وہ ایڈز کی مہلک بیماری سے بچ سکتے ہیں۔ ان تدبیروں میں سب سے زیادہ خاص تدبیر جنسی پر ہیز ہے: “The US government has released its new education plan which stresses on sexual abstinence as a preventive measure.” یہ واقعہ انسانی قانون پر خدائی شریعت کی برتری کا کھلا ہوا ثبوت ہے ۔ خدائی شریعت کو ماننے والا ایک شخص اگر خدانخواستہ مسافحت کا طریقہ اختیار کرے اور اس کو ایڈز کی بیماری لگ جائے تو اس کو اصول شریعت سے انحراف کا نتیجہ کہا جائے گا۔ اس کے برعکس، مغربی تہذیب کا ایک انسان مسافحت کر کے ایڈز میں مبتلا ہو تو وہ عین اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page