Urdu book · خاتونِ اسلام

غیر فطری مساوات کا نتیجہ

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

need medical help. Every day, four die. (p. 135) ایک جائزے کے مطابق امریکہ میں ہر 18 سیکنڈ میں ایک عورت ماری جاتی ہے۔ کبھی اپنے شوہر کے ہاتھوں اور کبھی اپنے دوست لڑکے کے ہاتھوں۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ ان میں سے ایک ملین سے زیادہ عورتوں کو ہر سال طبی امداد کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہر ایک دن میں چار عورتیں مر جاتی ہیں۔ امریکہ کے ترقی یافتہ اور مہذب معاشرہ میں عورتوں کو مارنے کی یہ برائی کیوں ہے۔ اس پر موجودہ زمانے میں کافی تحقیق کی گئی ہے۔ مسز سوسن شسٹر (Susan Schechter) نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے عورتیں اور مردانہ تشدد (Women and Male Violence) ان کا جواب یہ ہے کہ یہ جابرانہ کنٹرول حاصل کرنے کی ایک صورت ہے۔ "It is a pattern of coercive control." (p. 136). ریڈرس ڈائجسٹ کی مذکورہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے: "Any batterer can tell you why he hit her." say Ellen Pence, director of the Domestic Abuse Intervention Programme. "He wanted control over her, he wanted his way." (p.140). " کوئی بھی مارنے والا مرد آپ کو بتائے گا کہ اس نے عورت کو کیوں مارا۔ ”ڈی اے آئی پی کے ڈاکٹر الین پنس نے کہا۔ ”اس نے عورت کے اوپر کنٹرول حاصل کرنا چاہا۔ اس نے چاہا کہ اس کی اپنی مرضی چلے۔“ مذکورہ بیان کی روشنی میں غور کیجیے تو یہ صورت حال براہِ راست طور پر جدید مغربی تہذیب کا نتیجہ ہے۔ جدید مغربی تہذیب نے عورت کو مرد کے برابر قرار دیا۔ اس نے عورتوں کے لیے علاحدہ روزگار کا انتظام کر کے انھیں یہ موقع دیا کہ وہ مردوں سے آزاد اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page