Urdu book · خاتونِ اسلام

غیر فطری مساوات کا نتیجہ

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

مستقل معاشی بنیاد حاصل کرسکیں۔ اس بنا پر عورتوں کے اندر برابری کا احساس شدت کے ساتھ پیدا ہوگیا۔ تاہم یہ احساس مصنوعی تھا۔ کیوں کہ مذکورہ معاشی بندوبست کے باوجود مغربی تہذیب کے لیے یہ ممکن نہ ہوسکا کہ وہ فطرت کی اس تقسیم کو بدل دے کہ مرد پیدائشی طور پر صنف قوی اور عورت پیدائشی طور پر صنف ضعیف۔ اس مصنوعی مساوات کے نتیجے میں ان ملکوں کی گھریلو زندگی ایک تضاد کا شکار ہو گئی ان گھروں میں ایسی عورتیں رہنے لگیں جو اپنی جسمانی بناوٹ کے اعتبار سے تو مرد کے مقابلہ میں اسی طرح کمزور تھیں جس طرح ہر دور کی عورتیں کمزور رہی ہیں۔ مگر مزاج کے اعتبار سے وہ اپنے آپ کو مردوں کا ہمسر سمجھ رہی تھیں۔ مرد صنف قوی ہونے کی وجہ سے عورتوں پر اپنا کنٹرول قائم کرنا چاہتا تھا۔ مگر عورتوں نے اپنے مصنوعی مزاج کی بنا پر کنٹرول قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کشمکش کا نتیجہ یک طرفہ طور پر عورتوں کے حق میں بُرا ثابت ہوا۔ عورت اور مرد دونوں اگر واقعتاً حیاتیاتی طور پر یکساں ہوتے تو کبھی مرد عورت کو مارتا اور کبھی عورت مرد کو مارتی۔ مگر چونکہ یہاں معاملہ یکسانیت کا نہ تھا، اس لیے وہی صورت پیش آئی جو خربوزے اور چھری کے ٹکراؤ میں پیش آتی ہے۔ مرد ہمیشہ مارنے والا ثابت ہوا۔ اور عورت ہمیشہ مار کھانے والی۔ اس معاملہ میں جدید عورت کی مظلومی اتنی زیادہ بڑھی ہوئی ہے کہ وہ بھاگ کر بھی اپنے آپ کو نہیں بچا سکتی۔ رپورٹ کے مطابق ایک عورت نے کہا کہ اگر کوئی عورت بھاگنا چاہے تو اس کا شوہر اس کو دھمکی دیتا ہے کہ میں تم کو پکڑلوں گا اور تمہیں مار ڈالوں گا۔ اکثر سنگین ضربیں اور موتیں اس وقت پیش آتی ہیں جب کہ عورتیں باہر بھاگ جانا چاہتی ہیں: “If you try to leave, your husband may threaten, 'I'll find you and kill you.' Many of the worst injuries—and deaths— happen as women try to get away.” (p. 137).

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page