Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

فطرت کی تقسیم میں مرد کو عورت کے اوپر قوم بنایا گیا ہے۔ اب اگر اس تقسیم کو مصنوعی طور پر بدلنے کی کوشش کی جائے تو اس کا انجام وہی ہوگا جس کی ایک تصویر مذکورہ بالا رپورٹ میں دکھائی دیتی ہے۔ جدید تہذیب سے پہلے کبھی ایسا نہ تھا کہ عورتیں اس طرح اپنے گھروں میں ماری جائیں۔ یہ صرف دورِ جدید کی خصوصیت ہے اور یہ براہِ راست طور پر اس مصنوعی نظریہ مساوات کا نتیجہ ہے جو تاریخ میں پہلی بار مغربی تہذیب میں اختیار کیا گیا۔ تاریخ کے پچھلے دور میں بھی عورت کو مارنے کے واقعات ہوتے تھے مگر وہ استثنائی طور پر صرف نچلے طبقات میں پیش آتے تھے۔ لیکن جدید حالات نے ان کو بڑھا کر اعلیٰ طبقات کے دائرہ تک پہنچادیا۔ اس نے ایسے واقعات کو مہذب انسانوں کا مسئلہ بنا دیا جب کہ اس سے پہلے وہ صرف غیر مہذب انسانوں کے مسئلہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جدید عورت کی مظلومی ایک سیاح امریکہ گیا۔ ایک بار وہ وہاں کے ایک کلب میں تھا جہاں لڑکے اور لڑکیاں مل کر رقص کر رہے تھے۔ سیاح کنارے کی ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک ایک امریکی لڑکی آئی اور اس کے پاس بیٹھ گئی۔ اس نے اداس لہجے میں کہا: "مسٹر سیاح، کیا میرے اندر گلیمر (Glamour) نہیں ؟" "کیوں نہیں، تمہارے اندر تو گلیمر ہے۔" سیاح نے جواب دیا۔ "پھر کیا وجہ ہے کہ کوئی لڑکا مجھے ڈیٹ نہیں دیتا۔" لڑکی نے کہا۔ ڈیٹ (Date) کے معنی انگریزی زبان میں تاریخ کے ہوتے ہیں۔ مغربی ملکوں میں یہ لفظ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ایک رواج کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ وہ ہے ایک صنف کا دوسری صنف کو کسی مقررہ تاریخ کو مدعو کرنا۔ شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کا تجربہ کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے ڈیٹ دے کر ایک دوسرے کو اپنے پاس بلاتے ہیں۔ مغربی زندگی میں یہ رواج اتنا زیادہ عام ہو گیا ہے کہ جس لڑکی کو کوئی لڑکا " ڈیٹ " نہ دے وہ اپنے آپ کو کچھ کم سمجھنے لگتی ہے۔ اس کا خیال یہ ہو جاتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page