Urdu book · خاتونِ اسلام

جدید عورت کی مظلومی

Urdu book, p. 149

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ شادی کے بازار میں اس کی کوئی قیمت ہی نہیں۔ ڈیٹنگ کا یہ طریقہ ابتدا صرف گفتگو اور ملاقات تک محدود تھا۔ اب بڑھتے بڑھتے وہ باقاعدہ جنسی تعلق تک پہنچ گیا ہے۔ مغربی لڑکوں کے لیے یہ ایک مہذب طریقہ بن گیا ہے کہ وہ ڈیٹ دے کر ایک لڑکی کو تنہا کمرہ میں بلائیں اور پھر وہاں اس کے ساتھ جبری طور پر بدکاری کریں۔ اس سلسلے میں امریکی میگزین ٹائم (23 مارچ 1987) نے ایک سبق آموز رپورٹ شائع کی ہے۔ اس کا عنوان بامعنی طور پر یہ ہے ۔ جب ڈیٹ زنا کاری میں تبدیل ہو جائے: When the Date Turns into Rape. سوسن (Susan) 22 سال کی ایک غیر شادی شدہ خاتون ہے۔ اس کی ملاقات ایک مرد سے ہوئی۔ جب دونوں رخصت ہونے لگے تو مرد نے اس کو ڈیٹ دی۔ اس کے مطابق دونوں ایک کمرے میں جمع ہوئے 45 منٹ تک وہ ٹیلی وزن دیکھتے رہے اور ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ اس کے بعد مرد اس کے پاس آگیا اور آگے کے افعال کرنا شروع کر دیے ۔ عورت ٹھہر ٹھہر کر کہتی رہی۔ مگر مرد نہیں مانا۔ اس نے کہا کہ تم محض تکلف میں ایسا کہہ رہی ہو، ورنہ حقیقتاً تم مجھ کو روکنا نہیں چاہتی ہو: “You really don't want me to stop.” اس کے بعد اس کمرہ میں وہ سب کچھ ہوا جس کو قانونی اصطلاح میں "زنا بالجبر" کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی ڈیٹ ریپ موجودہ ترقی یافتہ ملکوں میں عام ہو چکی ہے۔ ڈیٹ کے ذریعہ بدکاری کرنا، بعض محققین کے نزدیک، آج کا بہت بڑا سماجی مسئلہ ہے۔ کالج کے طلبہ کا جائزہ یہی بتاتا ہے جو کہ 6200 مردوں اور عورتوں کے درمیان 32 کیمپس میں تین سال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page