Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 151

By Maulana Wahiduddin Khan

aggressively and women are trained to submit. (Times of India, 23 March, 1987, p. 35) مسڑسری پرکاش (سابق گورنر مہاراشٹر اور پاکستان میں پہلے ہندوستانی ہائی کمشنر) نے اپنی یادداشت میں لکھا ہے کہ 1947 میں انھوں نے ایک انگریز سے پوچھا کہ تم لوگ ہم ہندوستانیوں کو حقیر کیوں سمجھتے ہو۔ انگریز نے اس سوال کے جواب میں جو کچھ کہا اس میں سے ایک بات یہ تھی: "آپ لوگ شادی کے سلسلہ میں بہت سی پابندیاں ملحوظ رکھتے ہیں۔ یورپ کا نظریہ یہ ہے کہ نوجوان لڑکا اور لڑکی خود ایک دوسرے کو پسند کر کے شادی کرلیں ۔ آپ کے یہاں ایسا نہیں ہوسکتا۔ آپ لوگ سماجی بندھنوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔“ (صفحہ 172) آزادی نسواں کی تحریک کے آغاز میں یہ بات بہت اچھی معلوم ہوتی تھی۔ مگر غیر شادی شدہ لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان سے ہر قسم کی پابندیوں کو اٹھانے کا نتیجہ آخر کار قبل از نکاح صنفی تعلقات اور پھر زنا بالجبر کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس تجربہ نے بتایا کہ صنفی تعلقات کے معاملہ میں "پابندی" کا اصول ہی صحت مند اصول ہے۔ اس معاملہ میں ”آزادی“ کا اصول معاشرہ کو بربادی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچاتا۔ ایک حدیث ”ڈیٹ“ کا مذکورہ مغربی رواج اس بات کو جائز قرار دیتا ہے کہ غیر شادی شدہ عورت اور مرد تنہائی میں ایک دوسرے سے ملیں اور جتنی دیر تک چاہیں ایک ساتھ اپنے اوقات گزاریں ۔ اس رواج نے مغرب میں جو اندوہناک صورت حال پیدا کی ہے اس کو نظر میں رکھیے اور پھر مندرجہ ذیل حدیث پر غور کیجیے۔ تو معلوم ہوگا کہ شریعت نے اس معاملہ میں اصول مقرر کیے ہیں وہ کس قدر با معنی ہیں : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يَخْلُوَنَّ بِامْرَأَةِ لَيْسَ مَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا، فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ (مسند احمد، حدیث نمبر 14651) - یعنی، جو شخص

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page