Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 154

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان ٹائمس (19 مارچ 1987) نے امریکی نیوز ایجنسی کی اس خبر کو شائع کرتے ہوئے اس پر یہ سرخی قائم کی ہے ـــ پاکباز مرد کی مقبولیت : “Male Virgins in Vogue.” شادی کے لیے پاکبازی کی شرط طرفین کے لیے صنفی آزادی میں رکاوٹ تھی۔ چنانچہ آزادی نسواں کی تحریک کے ابتدائی دور میں اس کا مذاق اڑایا گیا اور اس کو محض ایک مذہبی افسانہ قرار دیا گیا۔ مگر تجربہ نے بتایا کہ یہ مذہبی افسانہ نہیں بلکہ ایک حیاتیاتی حقیقت ہے۔ اگر آپ اپنے لیے درست اور بے ضرر جوڑا چاہتے ہیں تو آپ کو پاکبازی کی شرط کو قبول کرنا پڑے گا۔ پاکبازی اس سے پہلے صرف ایک مذہبی حکم نظر آتی تھی۔ آج وہ صحت مند ازدواجی تعلق کے لیے ایک لازمی اصول کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ خدائی احکام کے مبنی بر حقیقت ہونے کا یہ کیسا عجیب ثبوت ہے جو خود انسانی تجربہ نے موجودہ زمانہ میں فراہم کیا ہے۔ اس کے بعد بھی آدمی اگر خدائی شریعت کی اہمیت کو نہ مانے تو یہ اس کی دھاندلی ہوگی، نہ کہ مبنی بر حقیقت رویہ۔ مصنوعی اولاد کا مسئلہ آزادی نسواں کی تحریک کا مقصد یہ تھا کہ عورت اور مرد دونوں ہر اعتبار سے بالکل برابر کا درجہ حاصل کر لیں ۔ مگر عملاً ایسا نہ ہوسکا۔ آزادی نسواں کی تحریک اپنے اصل مقصد کو پانے میں پوری طرح ناکام ہے۔ ایک امریکی خاتون ٹی گریـس اٹکنـسـن (Ti-Grace Atkinson) نے کہا کہ یہاں تحریک کا کوئی وجود نہیں۔ تحریک کا مطلب کہیں جانا ہے، اور آزادی نسواں کی تحریک کہیں بھی نہیں جارہی ہے۔ اس نے اب تک کچھ حاصل نہیں کیا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page