Urdu book · خاتونِ اسلام

مصنوعی اولاد کا مسئلہ

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

"There is no movement. Movement means going some place, and the movement is not going anywhere. It hasn't accomplished anything." (Time, March 20, 1972, p.30). اس تجربہ کی بنا پر مغربی ملکوں میں کچھ ایسی پرجوش خواتین پیدا ہو گئی ہیں جن کا مطالبہ ہے کہ مردوں پر انحصار کو کامل طور پر ختم کر دیا جائے۔ حتیٰ کہ ان سے جنسی تعلق بھی نہ رکھا جائے جل جانسٹن کا کہنا ہے کہ آزادی نسواں دراصل اس کا نام ہے کہ عورتیں ہم جنسی کا طریقہ اختیار کر لیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ عورتیں اپنی جنسی ضرورت کے لیے مردوں پر انحصار نہ کریں اس طرح وہ مردانہ کنٹرول سے آزاد ہو سکتی ہیں: Due to this experience, feminist extremists in western countries demand a complete withdrawal from dependence on men, including sexual ties. Village Voice columnist Jill Johnston, for example, insists that "feminism is lesbianism" and that it is only when women do not rely upon men to fulfill their sexual needs that they are finally free of masculine control." (Time, August 10, 1987, p. 25) دو عورتوں کا شوہر اور بیوی کی طرح رہنا سادہ سی بات نہیں۔ اس میں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ جوڑے اگر اپنا بچہ چاہتے ہیں تو وہ اپنے لیے ایک بچہ کیسے حاصل کریں۔ اس کا ذریعہ جدید میڈیکل سائنس نے مصنوعی تخم ریزی (artificial insemination) کی صورت میں فراہم کر دیا ہے۔ ہالینڈ کی دو عورتیں پولا ڈیجز (39) اور جی نین ہاکسمن (38) میاں بیوی کے طور پر رہتی ہیں۔ ان کو اولاد کی خواہش ہوئی تو انھوں نے لیڈن کے انسٹی ٹیوٹ آف برتھ کنٹرول سے رابطہ قائم کیا۔ پہلی کوشش ناکام رہی۔ دوسری کوشش میں پولا ڈیجز (Paula Deijs) حاملہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page