Urdu book · خاتونِ اسلام

مصنوعی اولاد کا مسئلہ

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوگئی۔ ایک نامعلوم شخص کے مادہ کے ذریعہ ان کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام ٹامس رکھا گیا۔ مگر ٹامس کی پیدائش کے بعد انھیں محسوس ہوا کہ دوبارہ انھیں اسی مرد کی ضرورت ہے جس سے توحش کی بنا پر انھوں نے ہم جنسی کا طریقہ اختیار کیا تھا۔ دونوں عورتیں اس حقیقت کے بارے میں بہت حساس ہیں کہ ان کے لڑکے ٹامس کو مرد درکار ہیں جو اس کے لیے کرداری نمونہ بن سکیں۔ اب دوبارہ وہ اس مقصد کو مصنوعی طور پر حاصل کر رہی ہیں۔ چنانچہ ان خواتین کے چچا، ان کے دادا، ان کے بھائی اور مرد پڑوسیوں سے درخواستیں کی جا رہی ہیں کہ وہ بار بار ان کے گھر آئیں۔ جی نین ہاکسمن (Jeanine Haaksman) نے کہا کہ ہم نے اپنے ایک مرد دوست کو چننا ہے جو ٹامس کے لیے باپ کا کام کرے۔ ہم ٹامس کو اس کے یہاں تمام فنی ہدایات کے لیے بھیجتے رہیں گے: The women are sensitive to the fact that Thomas needs men as role models. Uncles, a grandfather, brothers- in-law and male neighbours are encouraged to visit frequently. "We have a good friend not too far from here whom we have chosen to be a father image for Thomas," says Haaksman. "We'll send Thomas over to him for all the technical instructions." ٹامس کو ایک ”باپ“ فراہم کرنے کا مذکورہ بالا مصنوعی طریقہ کسی طرح اصل باپ کا بدل نہیں۔ یہ یقینی ہے کہ ان دونوں باپ اور بیٹے کے درمیان ایک قسم کی اجنبیت حائل رہے گی۔ اور ٹامس جب بڑا ہوگا تو یہ موہوم اجنبیت شعوری اجنبیت بن جائے گی۔ ٹامس اپنی ماں کو جانتا ہوگا مگر وہ اپنے باپ سے سراسر ناواقف ہوگا۔ ٹامس کی زندگی کا یہ خلا اس کے اندر طرح طرح کی ذہنی پیچیدگیاں پیدا کرے گا۔ اس کی یہ ذہنی حالت آخرکار اس کو نا ممکن بنادے گی کہ وہ سماج کا ایک مفید حصہ بن سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page