Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

گویا عورت اور عورت کے درمیان ہم جنسی کے نظام (Lesbianism) میں لڑکی پیدا کرنے کی گنجائش تو ہے، مگر لڑکا پیدا کرنے کی نہیں۔ اگر چہ لڑکی پیدا کرنے کے لیے بھی دوبارہ اسی مرد پر انحصار کرنا پڑے گا جس پر انحصار کو ختم کرنے کے لیے یہ نظام اختیار کیا گیا تھا۔ فطرت کے نظام سے انحراف کرنا آسان ہے، مگر اس کے بعد اس انحراف کی جو قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اس کو ادا کرنا کسی انسان یا کسی انسانی سماج کے لیے ممکن نہیں۔ غلطی کا اعتراف امریکا میں ایک کتاب چھپی ہے جس کا نام باعتبار مفہوم یہ ہے کہ بچے اپنے باپوں کو دوبارہ پارہے ہیں: Dr. Sam Osherson, Finding Our Fathers (1987) یہ امریکا کی خاندانی زندگی میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ جدید تہذیب میں زندگی کا اعلیٰ معیار یہ بن گیا تھا کہ عورت اور مرد دفتروں میں کام کریں اور بچوں کو گھریلو خادم (babysitters) یا مرکز اطفال (day-care centers) کے حوالے کر دیا جائے۔ مگر کئی نسل کی بربادی کے بعد امریکیوں کی سمجھ میں یہ بات آرہی ہے کہ بچوں کی تربیت اور ارتقاء کے لیے والدین کا کوئی بدل نہیں۔ چنانچہ امریکا میں ایسے والدین پیدا ہورہے ہیں جو اپنے بیرونی مشاغل میں کمی کر کے اپنے بچوں لیے وقت نکال رہے ہیں۔ کین شو مین (Ken Schuman) کو اونچی تنخواہ کا اعلیٰ عہدہ مل رہا تھا۔ مگر اس نے کم تنخواہ کی ملازمت پر قناعت کیا۔ کیوں کہ اعلیٰ عہدہ آدمی کو اتنا زیادہ مصروف بنا دیتا ہے کہ اپنے بچوں کی نگہداشت کے لیے وہ وقت نہیں نکال سکتا۔ اس نے کہا کہ موجودہ ملازمت کے ساتھ میں اعلیٰ درجہ کے ہوٹلوں میں لنچ نہیں لے سکتا، نہ ہوائی جہاز کے فرسٹ کلاس میں سفر کر سکتا ہوں مگر میں اپنے فیصلہ پر خوش ہوں، کیوں کہ اب میرے پاس کافی وقت ہے جب کہ اپنے بچوں کے تعمیری دور (formative stage) میں ان کی زیادہ مدد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page