Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

کر سکتا ہوں۔ جان فشر (John G. Fischer) بھی اسی قسم کے نئے باپوں (new breeds of fathers) میں سے ایک ہے۔ اس نے کہا کہ میں نے اس طرز زندگی کو از سرِ نو اختیار کیا ہے: I'm a convert to this way of life. یہ معلومات امریکی میگزین اسپان (ستمبر 1987) کے ایک مضمون میں دی گئی ہیں۔ صفحات کے اس مضمون کا عنوان یہ ہے: "Putting Kids First. The New generation of American fathers is balancing the demands of careers and children." جدید انسان اپنے نظریات کی ترقی کی انتہا پر پہنچ کر دوبارہ اپنی غلطی کا اعتراف کر رہا ہے۔ اگرچہ جدید معاشرہ پر ابھی تک اس کے سابقہ نظریات کا اتنا زیادہ غلبہ ہے کہ جو لوگ اس تبدیلی کے وکیل ہیں وہ اپنا نام ظاہر کرنا پسند نہیں کرتے (اسپان، ستمبر (31 1987، صفحہ مغربی شادیوں کا انجام امریکا کے ایک میگزین (Better Homes and Gardens) نے اپنے قارئین سے سوال کیا کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ امریکا میں خاندانی زندگی مشکلات سے دوچار ہے۔ 76 فیصد کا جواب تھا کہ ہاں: Do you think that family life in the U.S. is faced with troubles? Seventy-six percent answered in the affirmative. 85 فیصد نے کہا کہ پرمسرّت شادی کے بارے میں ان کی امیدیں پوری نہیں ہوئیں۔ اسی طرح ایک اور امریکی میگزین (Newsweek) نے مئی 1978 میں اپنے ایک جائزہ کے نتائج شائع کیے تھے۔ اس کے مطابق امریکا میں تقریباً نصف نکاح طلاق پر ختم ہوتے ہیں طلاق کے بعد دوبارہ نکاح ہوتے ہیں اور پھر دوبارہ طلاق۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page