مغربی شادیوں کا انجام
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
نکاح کے ایک مشیر رونا لڈکیلی (Ronald D. Kelly) نے لکھا ہے کہ: مشیر نکاح کی حیثیت سے میرے لیے ایک نہایت افسوس ناک بات یہ ہے کہ اکثر عورتیں اور مرد شادی کے بعد بھی اپنے گھروں میں اجنبی کی طرح رہتے ہیں۔ ان میں بہت کم اشتراک ہوتا ہے۔ ان میں ہر ایک الگ الگ راستے پر چلتا ہے۔ ان میں صرف کبھی کبھی گفتگو ہوتی ہے، وہ بھی زیادہ تر پیسہ، بچہ کی پرورش یا جنس کے بارے میں بحث کے طور پر۔ ان کو دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ آخر ابتداء میں وہ دونوں کس طرح اکٹھے ہوئے تھے (پلین ٹروٹھ، جون 1987) شادی خواہ کتنی ہی پسندیگی کے تحت کی گئی ہو، اس میں بہرحال ناخوش گواریاں پیش آتی ہیں، کبھی زندگی کے مسائل کی بنا پر، اور کبھی جنسی کشش زائل ہونے کی بنا پر۔ اب اگر میاں اور بیوی "شادی برائے مقصد" کے نظریہ کے تحت یکجا ہوتے ہوں تو پیش نظر مقصد کی خاطر دونوں اس کو نظر انداز کریں گے اور ناخوش گواریوں کو برداشت کرتے ہوئے باہم جڑے رہیں گے۔ اس کے برعکس جب "شادی برائے لذت" کا تصور ہو تو ہر خلاف مزاج بات کو برداشت کرتے ہوئے تعلق کو برقرار رکھنا ضروری سمجھیں۔ مغربی دنیا کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہاں تہذیب جدید کے اثر سے شادی برائے لذت کا اصول رائج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں خاندانی زندگی منتشر ہو کر رہ گئی ہے، کہیں جنسی کشش کے زوال کی بنا پر اور کہیں گھریلو مسائل کی بناء پر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader