آبادی کا مسئلہ
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹائم (23 مارچ 1987) کی مذکورہ رپورٹ پڑھنے کے بعد کچھ امریکی باشندوں نے مذکورہ ہفت روزہ کے نام خطوط لکھے ہیں جو ٹائم (13 اپریل 1987) میں چھپے ہیں۔ ایک مکتوب نگار لکھتے ہیں کہ میرا دل ان خاندانوں کے لیے خون بہاتا ہے جن کے بچوں نے خودکشی کی ہے۔ میں خوب جانتا ہوں۔ میرے 16 سال کے پوتے نے اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کر لی۔ ہمارا خاندان زندگی بھر حیران رہے گا کہ ایسا کیوں ہوا۔ اور ہم کبھی اس کو جان نہ سکیں گے: "My heart bleeds for the families of the teen suicides. I know. My 16-year old grandson committed suicide by hanging. Our family will spend the rest of our lives wondering why, and we will never know" (Eloise Gradin, Pensacola Beach Florida). ترقی یافتہ ملکوں کے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان کیوں ہے۔ اس کی واحد وجہ ان کی اپنے سرپرستوں سے محرومی ہے۔ ان ملکوں میں خاندانی انتشار کا مسئلہ بہت بڑے پیمانہ پر پیدا ہو گیا ہے اور یہی چیز ہے جس نے نوجوانوں کے اندر خودکشی کا رجحان پیدا کر دیا ہے۔ وہ خاندان کی شفقت سے محروم ہو کر پرورش پاتے ہیں، اور بڑے ہو کر طرح طرح کی نفسیاتی پیچیدگیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ چیز بعض اوقات انھیں خودکشی تک پہنچا دیتی ہے۔ ان ملکوں میں خاندانی انتشار پیدا ہونے کے دو بڑے اسباب ہیں۔ ایک یہ کہ انھوں نے ازدواجی زندگی کی بنیاد ذمہ داری کے بجائے لذت پر قائم کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ازدواجی تعلق میں مستقل تقدس کی قدر باقی نہ رہی۔ لوگ لذت کی خاطر ایک دوسرے سے ملنے اور لذت ختم ہونے پر ایک دوسرے سے الگ ہونے لگے۔ اس نظریہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ طلاق عام ہو گئی۔ طلاق کے بعد عورت ایک طرف چلی گئی اور مرد دوسری طرف۔ انھوں نے اس دوران میں جو بچہ پیدا کیا تھا، اس کا کوئی سرپرست نہ رہا۔ وہ والدین کی موجودگی میں یتیم بن کر رہ گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader