خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی دوسری وجہ ان ملکوں میں مشترک زندگی کا خاتمہ ہے۔ انھوں نے زندگی کا جو طرز اختیار کیا اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ بوڑھے ماں باپ دارالضعفاء (old age home) میں بھیجے جانے لگے۔ مشترک خاندان میں دادا اور دادی، نانا اور نانی بچوں کو سنبھالنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ مگر مغرب کی معاشرت میں ان لوگوں کا مقام گھر نہیں بلکہ وہ ضعیف خانے (old age home) ہیں جو خاص طور پر اسی مقصد کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ یہی معاملہ ایک اور صورت میں والدین کے ساتھ ہوا ہے۔ وہاں کے نظام کے مطابق مرد اگر کام کرتا ہے تو عورت بھی کرتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دونوں بیشتر اوقات گھر سے باہر رہتے ہیں۔ اپنے بچوں سے ان کی ملاقات بمشکل صرف "اتوار" کے دن ہوتی ہے۔ گویا مغرب کا بچہ اپنے دادا اور دادی یا نانا اور نانی سے اس لیے محروم ہے کہ وہ دارالضعفاء (old age home) میں منتقل ہو گئے ہیں۔ اور اپنے ماں باپ سے اس لیے محروم ہے کہ وہ دونوں کام کرنے کے لیے آفس چلے گئے ہیں۔ ایسے بچوں کا وہی انجام ہو سکتا ہے جو اوپر کی مثال میں نظر آتا ہے۔ خاتون سنگر کی موت کے بعد ٹائمس آف انڈیا (30 مارچ 1987) میں ایک رپورٹ جاپان کے متعلق شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کا عنوان ہے: Suicide Easy Escape for Japanese Youth. اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 19 سال کے اندر کے جاپانی نوجوانوں میں خودکشی کے واقعات تیزی سے بڑھے ہیں۔ 1985ء میں ایسے نوجوانوں کی تعداد 557 تھی ۔ جبکہ 1986 میں ان کی تعداد 802 تک پہنچ گئی۔ خودکشی کرنے والے اکثر نوجوان وہ تھے جو عمارتوں کی چھتوں سے کود پڑے۔ یہ واقعہ اس کے بعد ہوا جب کہ 18 سالہ خاتون پاپ سنگر یوکیواوکا دانے محبت میں ناکامی کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader