Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

ختم ہو گا۔ اس کے سوا اس کا کوئی انجام نہیں۔ بے قیدی کا تجربہ امریکی میگزین نیوزویک (21 جنوری 1985) صفحہ 35 پر ایک تصویر ہے۔ اس تصویر میں امریکی خواتین کا ایک جلوس دکھائی دے رہا ہے۔ جلوس کے آگے ایک نوجوان عورت ایک بینر اٹھائے ہوئے ہے۔ اس کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے: “Keep your laws and your morality off my body.” اپنے قوانین اور اپنے اخلاق کو میرے جسم سے دور رکھو۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کے لوگ اس وقت دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ ایک وہ جو کھلے عام اسقاط کے قائل ہیں۔ یہ لوگ اپنے کو ”اسقاط نواز“ نہ کہہ کر اپنے کو انتخاب نواز (pro-choice) کہتے ہیں۔ دوسرا گروہ جو اسقاط کا مخالف ہے وہ اپنے آپ کو زندگی نواز(pro-life) کہتا ہے۔ جدید مغربی مفکرین کا کہنا ہے کہ انھوں نے جو سب سے بڑی چیز دریافت کی ہے وہ آزادی ہے۔ مگر بے قید آزادی کا تجربہ جو جدید مغرب میں ہوا وہ بتاتا ہے کہ بے قید آزادی خیر اعلیٰ نہیں ہوسکتی۔ بے قید آزادی اگر خیر اعلیٰ ہو تو وہ اس قبیح انجام تک کیسے پہنچ جاتی ہے جس کا ایک نمونہ اوپر کے اقتباس میں نظر آتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ آزادی بے قیمتی چیز ہے۔ مگر انسان کے لیے خیر اعلیٰ پابند آزادی ہے، نہ کہ مطلق آزادی۔ یعنی انسان کے مقابلہ میں آزادی مگر خدا کے مقابلہ میں پابندی۔ انسان خدا اور بندے کے درمیان ہے۔ جہاں تک اپنے جیسے انسانوں کا تعلق ہے، ان کے مقابلہ میں بلاشبہ ہر انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ مگر اسی کے ساتھ دوسری شدید تر حقیقت یہ ہے کہ خدا کے مقابلہ میں انسان مکمل طور پر پابند ہے۔ خدا کے مقابلہ میں کسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page