ایک مثال
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
میامی ہرالڈ میں اگر یہ خبر چھپتی کہ مسٹر ہارٹ فلاں مکان میں اپنی بیوی کے ساتھ رات بھر رہے تو کوئی اس پر دھیان نہ دیتا۔ مگر اخبار نے جب یہ خبر چھاپی کہ مسٹر ہارٹ نے میامی کے فلاں مکان میں ایک غیر عورت کے ساتھ رات گزاری تو ہر طرف ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ یہ واقعہ اس بات کا تجرباتی ثبوت ہے کہ غیر عورت کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا فطرت انسانی کے خلاف ہے۔ اگر یہ فعل انسانی فطرت کے خلاف نہ ہوتا تو ہنگامہ کرنے والے کبھی اپنے منصوبے میں کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔ مسٹر ہارٹ نے اس مصیبت سے بچنے کے لیے اپنی ساری ذہانت صرف کر دی۔ پہلے انھوں نے انکار کیا۔ پھر ٹالنے والے جوابات دیتے رہے۔ انھوں نے اپنی بیوی لی ہارٹ (Lee Hart) کو راضی کیا کہ وہ 1300 میل کا سفر طے کر کے ہیم شائر سے ڈنور (Denver) پہنچیں اور اخبار نویسوں کے سامنے اپنا یہ بیان دیں کہ یہ بات اگر مجھے پریشان نہیں کرتی، تو میں نہیں سمجھتی کہ کسی اور کو اس سے پریشان ہونا چاہیے: “If it doesn't bother me, I don't think it ought to bother anyone else.” (p. 7) مسٹر ہارٹ نے جب دیکھا کہ معاملہ کو چھپانے کے بارے میں ان کی ساری تدبیروں کے باوجود راز کھل گیا ہے تو آخر کار انھوں نے اعتراف کر لیا۔ اب انھوں نے کہا کہ زنا کوئی قانونی جرم نہیں ہے۔ وہ صرف ایک گناہ ہے۔ اور وہ میرے اور میری بیوی اور میرے اور خدا کے درمیان ہے: “Adultery is not a crime. It's a sin. And that is between me and Lee, and me and God.” (p. 7) تاہم مسٹر ہارٹ کی یہ باتیں امریکی عوام کو مطمئن نہ کر سکیں۔ اوپنین پول میں اس سے پہلے امکانی صدر کی حیثیت سے ان کا نام سر فہرست رہتا تھا۔ اب پول کے ذریعہ عوام کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader