Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بالکل خلاف وہ بات کہی جو آج کی تحقیقات کے عین مطابق قرار پاتی ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صاحبزادے کا نام ابراہیم تھا۔ تقریباً ڈیڑھ سال کی عمر میں شوال 10 ھ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ روایات میں آتا ہے کہ جس روز ابراہیم کا انتقال ہوا، اسی روز سورج گرہن واقع ہوا۔ قدیم قوموں میں سورج گرہن کے بارے میں عجیب عجیب اعتقادات تھے۔ ایک عقیدہ یہ تھا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کسی بڑے آدمی کی موت پر واقع ہوتے ہیں۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ جس دن پیغمبر کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا اسی دن سورج گرہن پڑا تو مدینہ میں کچھ لوگوں نے کہا کہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے یہ سورج گرہن ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کیا اور اس کی حقیقت بیان فرمائی: فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَخْنِسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوا، وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1004)۔ آپ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔ آپ نے اللہ کی حمد کی اور اس کی تعریف بیان کی۔ پھر فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانی ہیں۔ ان میں گرہن کسی شخص کی موت اور اس کی زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا۔ پس جب تم اس کو دیکھو تو اللہ کو پکارو، اور اس کی تکبیر کرو اور صلوٰۃ و سلام بھیجو اور صدقہ کرو۔ قَالَ النَّبِي صلى اللہ علیہ وسلم: هَذِهِ الْآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ، لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1059، صحیح مسلم، حدیث نمبر 912)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page