خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نشانیاں جو اللہ بھیجتا ہے وہ کسی شخص کی موت یا زندگی کے سبب سے نہیں ہوتیں۔ بلکہ اللہ ان کے ذریعہ سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ پس جب تم ایسی چیز دیکھو تو اللہ سے ڈر کر اس کا ذکر کرو اور اس سے دعا کرو اور اس سے استغفار کرو۔ اس قسم کے بے بنیاد اوہام و خرافات کو تاریخ میں پہلی بار اسلام نے ختم کیا۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے جو تاریخ کی کتابوں میں حسب ذیل طریقہ سے آیا ہے: رُوِينَا مِنْ طَرِيقِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ قَالَ: لَمَّا افْتُتِحَتْ مِصْرُ أَتَى أَهْلُهَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ - حِينَ دَخَلَ بُؤْنَةُ مِنْ أَشْهُرِ الْعَجَمِ - فَقَالُوا: أَيُّهَا الْأَمِيرُ، لِنِيلِنَا هَذَا سُنَّةً لَا يَجْرِي إِلَّا بِهَا. قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالُوا: إِذَا كَانَتِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ هَذَا الشَّهْرِ، عَمَدْنَا إِلَى جَارِيَةٍ بِكْرٍ مِنْ أَبَوَيْهَا، فَأَرْضَيْنَا أَبَوَيْهَا، وَجَعَلْنَا عَلَيْهَا مِنَ الْحُلِيِّ وَالثِّيَابِ أَفْضَلَ مَا يَكُونُ، ثُمَّ أَلْقَيْنَاهَا فِي هَذَا النِّيلِ. فَقَالَ لَهُمْ عَمْرُو: إِنَّ هَذَا مَالَا يَكُونُ فِي الْإِسْلَامِ، إِنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا قَبْلَهُ. قَالَ: فَأَقَامُوا بُؤْنَةَ وَأَبِيبَ وَمِسْرَى وَالنِّيلُ لَا يَجْرِي قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا، حَتَّى هَمُّوا بِالْجَلَاءِ، فَكَتَبَ عَمْرُو إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِذَلِكَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنَّكَ قَدْ أَصَبْتَ بِالَّذِي فَعَلْتَ، وَإِنِّي قَدْ بَعَثْتُ إِلَيْكَ بِبِطَاقَةٍ دَاخِلَ كِتَابِي، فَأَلْقِهَا فِي النِّيلِ. فَلَمَّا قَدِمَ كِتَابُهُ أَخَذَ عَمْرُو بِالْبِطَاقَةِ فَإِذَا فِيهَا: مِنْ عَبْدِ اللَّهِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى نِيلِ أَهْلِ مِصْرَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا تَجْرِي مِنْ قَبْلِكَ فَلَا تَجْرِ، وَإِنْ كَانَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ هُوَ الَّذِي يُجْرِيكَ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader