ایک مثال
Urdu book, p. 180
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی بات سابق صدر امریکا لنڈن جانسن کے پریس سکریٹری جارج ریڈی (George Reedy) نے اس طرح کہی کہ صدارت کے امیدوار کے لیے جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ اس کا کیریکٹر ہے۔ اور یہ سب سے زیادہ عورتوں کے ساتھ اس کے تعلق کے معاملہ میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس عہدہ پر ایک ایسا آدمی ہوتا ہے جو آپ سے کہتا ہے کہ آپ اپنے بنک اکاؤنٹ کے معاملہ میں اس پر بھروسہ کریں، اسی طرح آپ کے بچوں، آپ کی زندگی اور آپ کے ملک کے معاملہ میں بھی چار سال تک۔ اگر خود اس کی اپنی بیوی اس پر اعتماد نہ کر سکے تو یہ بات کس چیز کا پتہ دیتی ہے : “What counts with a candidate for President is his character, and nothing shows it like his relationship with women. Here you have a man who is asking you to trust him with your bank account, your children, your life and your country for four years. If his own wife can’t trust him, what does that say?” (p. 15) حقیقت یہ ہے کہ جو شخص ایسا کرے کہ وہ نکاح کے دائرہ سے باہر جنسی تعلق قائم کرے، وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کے اندر ذہنی ڈسپلن نہیں ہے۔ وہ اپنے جذباتی محرکات پر قابو رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ایسا شخص اپنے کردار کے اعتبار سے ہرگز اعتبار کے قابل نہیں۔ اس کے اندر ایک ایسی نفسیاتی کمزوری ہے جس کی بنا پر شدید اندیشہ ہے کہ وہ اپنی کسی ذاتی خواہش کے لیے بڑے بڑے قومی مفاد کو قربان کر دے۔ ایسا شخص عام زندگی میں بھی بھروسہ کے قابل نہیں، کجا کہ ریاست کے اعلیٰ منصب کے لیے اس پر بھروسہ کیا جائے۔ تجربات بتاتے ہیں کہ جنسی تعلقات کے معاملہ میں خدائی حد کو توڑنا سادہ معنوں میں صرف ایک مذہبی برائی نہیں، وہ مہلک قسم کی سماجی برائی بھی ہے۔ وہ صرف ایک گناہ نہیں، وہ ایک جرم بھی ہے۔ بلکہ اپنے نتائج کے اعتبار سے سب سے بڑا جرم۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader