ترقی کے بجائے تنزل
Urdu book, p. 183
By Maulana Wahiduddin Khan
پچاس سال پہلے امریکی خاندان ایک چٹان تھا جس پر ملک نے اپنا معبد تعمیر کیا تھا، اب وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہے۔ امریکی عورت نے مادری ذمہ داری اور گھر سنبھالنے کی ذمہ داری کو پندرہ سال پہلے چھوڑ دیا تھا تاکہ وہ روزگار کے بازار میں اپنی جگہ بنا سکے۔ اب وہ ان تینوں ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے نازک کام کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکا مرد اپنے آپ کو ایک نئی سخت دنیا میں پا رہا ہے اور بمشکل ہم آہنگی کی کوشش کر رہا ہے۔ جب امریکی مرد اور عورت ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں، جیسا کہ شادی شدہ جوڑوں کی نصف تعداد آج کل کرتی ہے، تو امریکی بچہ اپنے سرپرستوں سے محروم ہو کر ایسا محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی سہارے کے بغیر پروان چڑھ رہا ہے۔ بیسویں صدی کے آخر میں پہنچ کر امریکا کا دانشور طبقہ اس بات کا اعتراف کر رہا ہے کہ بیسویں صدی کے آغاز میں امریکا نے جس چیز کو ترقی کا زینہ سمجھ کر اختیار کیا تھا، وہ اس کے لیے صرف بربادی کا زینہ ثابت ہوا ہے۔ عورت کو گھر سے باہر نکالنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ امریکا کا خاندانی نظام بالکل منتشر ہو کر رہ گیا۔ مزید یہ کہ عورت کو” آزاد“ کرانے کا خوش نما منصوبہ عملاً ازدواجی زندگی کو غیر مستحکم بنانے کا ذریعہ ثابت ہوا، اور اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader