خاتونِ اسلام
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
تَعَالَى أَنْ يُجْرِيَكَ. قَالَ: فَأَلْقَى الْبِطَاقَةَ فِي النَّيْلِ فَأَصْبَحُوا يَوْمَ السَّبْتِ، وَقَدْ أَجْرَى اللَّهُ النَّيْلَ سِتَّةَ عَشَرَ ذِرَاعاً فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ، وَقَطَعَ اللَّهُ تِلْكَ السُّنَّةَ عَنْ أَهْلِ مِصْرَ إِلَى الْيَوْمِ (البداية والنهاية، ج 10، ص 97) ۔ ابن لھیعہ نے کہا کہ قیس بن حجاج نے ایک صاحب سے سنا ہوا یہ واقعہ بیان کیا کہ جب مصر فتح ہوا تو اس کے باشندے حضرت عمرو بن العاص کے پاس آئے اور وہ وہاں امیر تھے۔ جب عجمی مہینوں میں سے بوونہ کا مہینہ آیا تو انھوں نے کہا کہ اے امیر، ہمارے اس دریائے نیل کے لیے ایک رواج ہے، وہ اس کے بغیر نہیں بہتی۔ انھوں نے پوچھا وہ کیا ہے۔ اہل مصر نے کہا کہ جب اس مہینہ کی بارہ راتیں گزر جاتی ہیں تو ہم ایک ایسی کنواری لڑکی کا قصد کرتے ہیں جو اپنے ماں باپ کے درمیان اکیلی ہو۔ پھر ہم اس کے ماں باپ کو راضی کرتے ہیں اور اس کو زیور اور کپڑا پہناتے ہیں جو سب سے اچھا ممکن ہو۔ پھر ہم اس کو دریائے نیل میں ڈال دیتے ہیں۔ حضرت عمرو بن العاص نے ان سے کہا کہ اسلام میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ اسلام اپنے سے پہلے کی چیزوں کو ختم کر دیتا ہے۔ پھر اہل مصر بوونہ کے مہینہ میں رکے رہے مگر دریائے نیل میں پانی نہیں آیا۔ یہاں تک کہ انھوں نے ارادہ کیا کہ اس علاقہ کو چھوڑ کر چلے آئیں۔ اب عمرو بن العاص نے اس کی بابت حضرت عمر بن الخطاب کو لکھا۔ حضرت عمر نے ان کو لکھا کہ جو تم نے کیا صحیح کیا۔ اور میں اپنے اس خط کے ساتھ تمہارے لیے ایک پرچہ بھیج رہا ہوں تم اس کو نیل میں ڈال دو۔ جب خلیفہ کا خط پہونچا تو حضرت عمرو بن العاص نے پرچہ کو لے کر اسے کھولا تو اس میں لکھا ہوا تھا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader