Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کے بندے امیرالمومنین کی طرف سے مصر والوں کے دریائے نیل کے نام، اما بعد، اگر تو خود اپنی طرف سے جاری ہوتا تو نہ جاری ہو۔ اور اگر اللہ واحد و قہار تھا جو تجھ کو جاری کرتا تھا تو ہم اللہ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ تجھ کو جاری کردے۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص نے یہ پرچہ دریائے نیل میں ڈال دیا۔ لوگوں نے اگلے دن صبح کو دیکھا تو اللہ نے نیل کو جاری کردیا تھا۔ ایک ہی رات میں اس کے اندر 16 ہاتھ اونچا پانی آگیا اس سال اللہ نے مصر والوں سے اس رواج کو ختم کردیا اور وہ اب تک ختم ہے۔ (البدایہ والنہایہ، ج 10، ص 97) ایک عملی ضرورت قدیم زمانے میں خرافات (myths) اور توہمات (superstitions) کے رواج نے تمام معاملات میں انسان کے نقطہ نظر کو غیر حقیقی بنا رکھا تھا۔ عورتوں کے معاملہ میں ایک مزید سبب بھی شامل ہوگیا۔ انسانی معاشرہ کی جو مختلف ضرورتیں ہیں ان کو وسیع تر تقسیم میں دو ضرورتیں کہا جاسکتا ہے۔ ایک گھر کے اندر کا کام۔ اور دوسرے گھر کے باہر کا کام۔ گھر انسانی معاشرہ کی ابتدائی بنیاد ہے۔ یہیں آدمی کو سکون کے لمحات ملتے ہیں۔ یہیں کسی قوم کی اگلی نسل تیار ہوتی ہے۔ گھر ہی معاشرہ کی وہ اکائی ہے جس کی بہت سی تعداد کے ملنے سے معاشرہ بنتا ہے۔ گھر نہیں تو انسانی معاشرہ بھی نہیں۔ جس طرح اینٹ کی درستگی پوری عمارت کی درستگی ہے، اسی طرح گھر کی درستگی پورے معاشرہ کی درستگی ہے۔ تاہم کام کی ان دونوں قسموں کی نوعیت الگ الگ ہے۔ گھر کے اندر کے کام نرم و نازک کام ہیں۔ گھر کے معاملات کو سنبھالنے کے لیے انفعالی صلاحیتیں زیادہ مفید ہیں۔ اس کے برعکس، باہر کے کام کے لیے فعال صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں۔ باہر کے کام کو انجام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page