Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 201

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی، کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہو جاتے کہ وہ ان سے سمجھتے یا ان کے کان ایسے ہو جاتے کہ وہ ان سے سنتے۔ اوپر جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ سب وہ ہیں جن کا تعلق کسی خاص صنف سے نہیں، ان کا تعلق مرد اور عورت دونوں سے ہے۔ یہی چیزیں اسلام کی اصل ہیں اور یہی فلاح و نجات کا ذریعہ ہیں، عورتوں کے لیے بھی اور مردوں کے لیے بھی۔ خواتین اسلام کی مثال تا ہم دین کے معاملہ میں اپنا حصہ ادا کرنے کے لیے جس طرح مردوں کے دو درجے ہیں اسی طرح عورتوں کے بھی دو درجے ہیں: ایک عام، دوسرا خاص۔ عام درجہ وہ ہے جو ہر خاتون کے لیے ہے۔ یعنی ذاتی معاملہ میں خدا اور بندوں کے حقوق ادا کرنا۔ خدا کے بارے میں عقیدہ کی درستگی۔ خدا کے احکام کی بجا آوری۔ زندگی کے معاملات میں انصاف پر قائم رہنا۔ نفسانی محرکات اور شیطانی وساوس کا مقابلہ کرنا۔ اپنی ذات اور اپنے مال سے خدا کا حق نکالنا۔ ہمیشہ دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو سامنے رکھنا۔ اپنے گھر اور اپنے متعلقین کے درمیان اسلامی اخلاق کے ساتھ رہنا۔ معاملات میں ہمیشہ وہ کرنا جو اسلام کا تقاضا ہے۔ عورت کا دوسرا اہم فرض اپنے بچوں کی اصلاح و تربیت ہے۔ ہر عورت بالآخر ماں بنتی ہے۔ بچے سے ماں کا اور ماں سے بچہ کا بے حد گہرا تعلق ہوتا ہے۔ یہ تعلق بگاڑ کا سبب بھی بن سکتا ہے اور بناؤ کا بھی۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے عورت کا فرض یہ ہے کہ وہ اس تعلق کو صرف بناؤ اور اصلاح کے لیے استعمال کرے۔ تیسری چیز جو ہر عورت کے لیے ضروری ہے وہ یہ کہ اپنے شوہر کے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے مسئلہ نہ بنے۔ زندگی میں "کیا کیا جائے" سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ "کیا نہ کیا جائے"۔ اس معاملہ میں عورتوں سے جذباتی ہونے کی بنا پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page