Urdu book · خاتونِ اسلام

خواتین اسلام کی مثال

Urdu book, p. 203

By Maulana Wahiduddin Khan

دور آیا تو لوگ مہر کی رقم زیادہ مقرر کرنے لگے۔ عمر فاروق اپنے زمانہ خلافت میں ایک بار منبر پر آئے اور تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ چار سو درہم مہر پر کس نے زیادتی کی۔ رسول اللہ کا اور آپ کے اصحاب کا مہر آپس میں چار سو درہم یا اس سے کم ہوتا تھا۔ حضرت عمر نے مزید کہا کہ خبردار تم لوگ عورتوں کے مہر میں زیادتی مت کرو۔ جب بھی مجھے معلوم ہوگا کہ کسی نے رسول اللہ کے مہر سے زیادہ مہر باندھا ہے تو میں اس زیادتی کو ضبط کر کے بیت المال میں داخل کر دوں گا۔ اس کے بعد مجمع کے گوشہ سے ایک عورت اٹھی۔ اس نے کہا کہ اے امیر المومنین، اللہ کی کتاب زیادہ اتباع کے قابل ہے یا آپ کا قول۔ حضرت عمر نے کہا کہ اللہ کی کتاب۔ عورت نے کہا کہ ابھی آپ نے لوگوں کو منع کیا ہے کہ وہ عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کریں ۔ حالانکہ اللہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: ﴿وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَاراً فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئاً﴾ (4:20) ۔ یعنی، اور تم اس کو بہت سا مال دے چکے ہو تو تم اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ یہ سن کر حضرت عمر نے فرمایا کہ ہر ایک عمر سے زیادہ عالم ہے (كُلُّ أَحَدٍ أَفْقَهُهُ مِنْ عُمَرَ)۔ پھر انھوں نے اپنا حکم فوراً واپس لے لیا۔ (سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر 598)۔ اس مثال میں ایک عورت دینی بات کا مجمع عام میں اعلان و اظہار کر رہی ہے۔ امام ابو جعفر طحاوی (321-229ھ) ایک مشہور محدث ہیں۔ ان کی کتاب طحاوی حدیث کی ایک مشہور کتاب ہے ۔ اور عربی مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔ امام طحاوی نے یہ کتاب اپنی بیٹی سے املا کرائی ہے۔ اس کی ترتیب اس طرح ہوئی کہ باپ حدیث پڑھ کر سناتے اور اس کے مطالب بیان کرتے اور بیٹی ان کے پاس بیٹھی ہوئی لکھتی جاتی ۔ اس طرح پوری کتاب تیار ہو گئی۔ اس مثال میں عورت دین کے معاملہ میں اپنے محرم رشتہ دار کی معاونت کر رہی ہے۔ یہ چند مثالیں ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورت اسلام کی حدود میں رہتے ہوئے ، کہاں تک آگے آسکتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page