Urdu book · خاتونِ اسلام

عورت کا احترام

Urdu book, p. 205

By Maulana Wahiduddin Khan

کے پاس لایا۔ اور آدم نے کہا کہ یہ تو اب میری ہڈیوں میں سے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے۔ اس لیے وہ ناری کہلائے گی کیوں کہ وہ نر سے نکالی گئی ہے۔ (پیدائش ،23-21 :2) بائبل کی یہی روایت ہے جس کو بعد کے کچھ لوگوں نے قرآن کی تفسیر میں داخل کر دیا۔ اور اس کی روشنی میں قرآنی آیت کی تشریح کرنے لگے۔ مگر یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ بائبل ایک محرف کتاب ہے۔ اس میں پیغمبروں کے کلام کے ساتھ عام انسانی کلام کی آمیزش ہوئی ہے، اس لیے اس کے بیان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ اس کی روشنی میں قرآنی آیت کی تشریح کرنا درست ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت یا کسی بھی دوسری آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حوا کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں جو لفظ ہے وہ منھا ( اس سے ) ہے ، نہ کہ من ضلع آدم ( آدم کی پسلی سے )۔ چنانچہ محقق مفسرین نے منھا سے مراد من جنسھا لیا ہے۔ یعنی نفس واحدہ ( آدم ) کی جنس سے، نہ یہ کہ خود آدم کے اپنے جسم سے۔ ابو مسلم اصفہانی اور بعض دوسرے مفسرین سے یہی قول نقل ہوا ہے اور یہی قرآنی الفاظ کے مطابق ہے۔ وَالْقَوْلُ الثَّانِي : وَهُوَ اخْتِيَارُ أَبِي مُسْلِمِ الْأَصْفَهَانِيِّ : أَنَّ الْمُرَادَ مِنْ قَوْلِهِ : وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا أَيْ مِنْ جِنْسِهَا ۔ (تفسیر الرازی ، ج 9، ص 478) وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمَعْنَى مِنْ جِنْسِهِ لَا مِنْ نَفْسِهِ حَقِيقَةً (البحر المحیط) منھا کو من جنسھا کے معنی میں لینے کی تائید بعض دوسری آیتوں سے ہوتی ہے۔ قرآن میں نفس کا لفظ بار بار جنس کے معنی میں آیا ہے۔ اس طرح یہ دوسری آیتیں سورہ نساء کی مذکورہ آیت کی نہایت واضح تشریح کر رہی ہیں۔ یہاں ہم چند آیتیں نقل کرتے ہیں: وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا (16:72) یعنی، اور اللہ نے تم ہی میں سے تمھارے لیے بیویاں بنائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page