Urdu book · خاتونِ اسلام

عورت کا احترام

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا (30:21)۔ یعنی، اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں بنائیں تا کہ تم سکون حاصل کرو۔ فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا (42:11)۔ یعنی، وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے بنائے اور اسی طرح مویشیوں میں سے بھی جوڑے بنائے۔ ان آیتوں پر غور کیجئے۔ ان میں عام مردوں کی ازدواج (بیویوں) کے لیے بھی عین وہی لفظ آیا ہے جو سورہ نساء کی آیت میں حضرت آدم کی زوج (بیوی) کے لیے آیا ہے۔ اس کے مطابق حوا کو جس طرح آدم کی ”نفس‘‘ سے پیدا کیا گیا۔ اسی طرح دوسرے تمام مردوں کی بابت بھی ارشاد ہوا ہے کہ ان کی بیوی کو ان کے ”نفس‘‘ سے پیدا کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان دوسری آیتوں کے یہ معنی نہیں لیے جاسکتے کہ ہر مرد کی بیوی اس کے اپنے جسم کے اندر سے نکالی گئی ہے۔ یہاں لازمی طور اس کو جنس کے معنی میں لینا ہوگا۔ یعنی یہ کہ اللہ نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے تمہاری عورتیں بنائیں تاکہ وہ تمہارے لیے حقیقی معنی میں رفیق زندگی بن سکیں۔ جس طرح عام آدمیوں کی بیویاں ان کی ہم جنس ہیں، نہ کی حیاتیاتی معنوں میں ان کے جسم کا حصہ۔ اسی طرح حضرت آدم کی بیوی (حوا) بھی ان کی ہم جنس تھیں، وہ آدم کے جسم کے اندر سے نکالی نہیں گئیں ۔ اللہ نے آدم کی طرح ان کی بیوی کو بھی اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ جس طرح اس نے عام مردوں کی طرح ان کی عورتوں کو اپنی قدرتِ خاص سے پیدا فرمایا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page