احادیث
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
احادیث اب ایک سوال ان احادیث کا ہے جو اس سلسلہ میں نقل کی جاتی ہیں اور جن میں صراحتہً ضلع (پسلی) کا لفظ آیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ ان احادیث میں آدم وحوا کی تخلیق کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ وہ عام عورتوں کے بارے میں ہیں۔ یعنی ان احادیث میں ہر ہر عورت کی تخلیق نوعیت کا ذکر ہے، نہ کہ مخصوص طور پر حضرت حوا کی تخلیق نوعیت کا ذکر۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: اِسْتَوْصُوْا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ ( مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر 19272 )۔ یعنی، عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی میری نصیحت قبول کرو۔ کیوں کہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں لیا جاسکتا کہ عورت واقعتاً پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ کیوں کہ پورے فقرہ کے ساتھ اس کا کوئی جوڑ نہیں۔ حدیث کا مدعا عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک کی تاکید کرنا ہے۔ اس لیے اس کی وہی تشریح درست ہوگی جو اس اصل مدعا کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔ ”عورتیں پسلی سے پیدا کی گئی ہیں“ کا فقرہ یہاں مجازی معنوں میں ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کا معاملہ پسلی جیسا معاملہ ہے۔ وہ پسلی کی مانند ہیں۔ چنانچہ خود دوسری روایت میں یہ صراحت موجود ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ، إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 5184؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1468 )۔ یعنی، حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت پسلی کی مانند ہے۔ اگر تم اس کو سیدھا کرو گے تو تم اس کو توڑ دو گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader