احادیث
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
بخاری و مسلم کی اس روایت میں واضح طور پر کا لضلع کا لفظ ہے۔ یعنی یہ کہ عورت پسلی کی مانند ہے ، نہ یہ کہ وہ خود پسلی سے بنائی گئی ہے۔ پسلی کی مانند ہونے کا مطلب کیا ہے ، یہ بھی صراحۃً حدیث میں موجود ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو تم اس کو توڑ دو گے ۔ ’’عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے‘‘ اور ’’عورت پسلی کی مانند ہے‘‘ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ یہ صرف ادبی اسلوب کا فرق ہے ، نہ کہ حقیقت کا فرق۔ ہر زبان میں یہ اسلوب عام ہے کہ جب تشبیہ میں شدت پیدا کرنا مقصود ہو تو ’’مثل‘‘ کا لفظ حذف کر دیتے ہیں۔ مثلاً ایک شخص کی بہادری بتانے کے لیے کبھی کہا جاتا ہے کہ وہ شیر کی طرح ہے۔ اور جب اس بات کو زیادہ زور دے کر کہنا ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ ’’ وہ شیر ہے‘‘۔ جیسے میر انیس نے کربلا کے میدان کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا ہے: کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے عورت کے بارے میں نفسیات اور حیاتیات کا علم بتاتا ہے کہ وہ ’’صنف نازک‘‘ ہے۔ وہ مرد کے مقابلہ میں کمزور اور نازک ہوتی ہے۔ اس کے مزاج انفعالیت ہے۔ چنانچہ کسی واقعہ سے وہ بہت جلد متاثر ہو جاتی ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو ہر آدمی جانتا ہے خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا بے پڑھا لکھا۔ ہر باپ جانتا ہے کہ بیٹے سے سختی کی جاسکتی ہے مگر بیٹی کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنا ضروری ہے۔ کیوں کہ وہ شدت کا تحمل نہیں کر سکتی ۔ چنانچہ خودکشی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مردوں کے مقابلہ میں عورتیں زیادہ خودکشی کرتی ہیں ، وہ ایک معمولی واقعہ سے متاثر ہو کر خودکشی کر سکتی ہیں یا ذہنی اختلال کا شکار ہو کر رہ جاتی ہیں۔ یہی وہ معلوم حقیقت ہے جس کو حدیث میں تمثیل کے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ آدمی کے سینے میں پسلی کی ہڈیاں کسی قدر خم دار ہوتی ہیں۔ ان کا خم دار رہنا ہی مصلحت کے مطابق ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader