Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی ڈاکٹر ایسا نہیں کرتا کہ آپریشن کے ذریعہ ان پسلیوں کو سیدھا کرنے کی کوشش کرے۔ اسی معلوم واقعہ کی مثال دیتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ ان کی فطرت کے مطابق پیش آؤ۔ عورتوں سے معاملہ کرتے ہوئے ہمیشہ یہ ذہن میں رکھو کہ عورتیں فطری طور پر نازک اور جذباتی ہوتی ہیں۔ اللہ نے مخصوص مصالح کے تحت انھیں بالارادہ ایسا ہی بنایا ہے اس لیے تم ان کے ساتھ ہمیشہ نرم برتاؤ کرو۔ کوئی بات بتانا ہو تو نرمی اور خوش اسلوبی کے ساتھ بتاؤ۔ اگر تم ان کے ساتھ سختی کرو گے تو ان کی شخصیت اس کا تحمل نہ کر سکے گی۔ ان کا دل اسی طرح ٹوٹ جائے گا جس طرح پسلی سیدھا کرنے میں ٹوٹ جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار سفر میں تھے۔ کچھ خواتین اونٹ پر بیٹھی ہوئی چل رہی تھیں ساربان نے اونٹ کو زیادہ تیز چلانا چاہا۔ اونٹ جب تیز چلتا ہے تو مسافر کا جسم کافی ہلنے لگتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساربان ( حضرت انجشہ ) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ رِفْقًا بِالْقَوَارِيرِ (اے انجشہ، یہ آبگینے ہیں، ذرا آہستہ چلو) صحیح البخاری، حدیث نمبر 6161؛ الحاوی الکبیر للماوردی، جلد 17، صفحہ 195۔ جدید تحقیقات موجودہ زمانہ میں خالص علمی طور پر یہ بات تسلیم کر لی گئی ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان بنیادی پیدائشی فرق پائے جاتے ہیں، انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) میں خواتین کی حالت (status of women) پر ایک مفصل مقالہ ہے۔ اس مقالہ کا ایک ذیلی عنوان یہ ہے: “Scientific Studies of Male-Female Differences” (مرد اور عورت کے فرق کا علمی مطالعہ) مقالہ کے اس حصہ میں مقالہ نگار نے دکھایا ہے کہ جدید تحقیقات ثابت کرتی ہیں کہ عورت اور مرد کے درمیان عین پیدائشی بناوٹ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page