Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

دینے کے لیے زیادہ سخت جسم اور زیادہ طاقتور اعصاب کی ضرورت ہے۔ انسانی تمدن کے بقا اور ترقی کے لیے یہ دونوں ہی قسم کی صلاحیتیں ضروری ہیں۔ چنانچہ قدرت نے اسی کے لحاظ سے مرد اور عورت کی دو الگ الگ جنسیں پیدا کی ہیں۔ اس نے عورت کے اندر انفعالی صلاحیتیں زیادہ رکھی ہیں تا کہ وہ گھر کے اندر کے کام سنبھالے۔ اور اسی طرح مرد کے اندر فعال صلاحیتیں زیادہ رکھی ہیں تا کہ وہ گھر کے باہر والے کام کی ذمہ داری اٹھا سکے۔ زندگی کی تنظیم میں اس حکمت کو ملحوظ رکھا جائے اور ہر صنف کو وہی کام دیا جائے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے تو زندگی کا نظام نہایت درست اور متوازن رہے گا۔ لیکن اگر اس حکمت کو ملحوظ رکھے بغیر زندگی کی تنظیم کی جائے تو زندگی کا نظام غیر متوازن ہو کر رہ جائے گا اور بربادی کے رخ پر چل پڑے گا۔ قدیم زمانے میں بہت سی قومیں اس حکمت کو سمجھ نہ سکیں۔ انھوں نے دیکھا کہ مرد معاشی شعبوں کو سنبھالتا ہے۔ وہ جنگ و مقابلے کے وقت قوم کا دفاع کرتا ہے۔ وہ تمام محنت طلب کاموں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ چنانچہ انھوں نے یہ رائے قائم کر لی کہ مرد برتر مخلوق ہے اور عورت کم تر مخلوق ۔ قدرت نے مرد اور عورت کے درمیان فرق کو برائے ضرورت رکھا تھا، انھوں نے اس فرق کو برائے فضیلت سمجھ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں ہم ہر جگہ دیکھتے ہیں کہ مرد کے مقابلے میں عورت کا درجہ گرا دیا گیا اس کو مرد کے مقابلے میں حقیر سمجھا جاتا ہے۔ عورت کے بارے میں تو ہمات عورتوں کا مرتبہ مردوں سے کم سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ معاشرہ میں حقیر قرار دیدی گئی۔ اس کو خاندانی جائیداد میں حصہ کا مستحق نہیں سمجھا گیا۔ قانون کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہی کہ اس کو وہ حق دیا جائے جو مردوں کو حاصل ہے۔ اس کو عملاً غلام کا درجہ دے دیا گیا۔ حتی کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page