Urdu book · خاتونِ اسلام

خاتونِ اسلام

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

ماہرین نے بتایا ہے کہ عورت اور مرد کے تمام فرق ان کے جین کے اندر پائے جاتے ہیں، نہ کہ سماجی حالات میں۔ عورتوں کے اندر انفعالیت کا سبب ان کے مخصوص ہارمون ہیں۔ میل ہارمون اور فیمیل ہارمون میں یہ فرق پیدائش کے بالکل آغاز سے موجود رہتا ہے۔ (ٹائم میگزین ، نیویارک ، 20 مارچ 1972) اسلام دین فطرت ہے۔ اس کے تمام احکام فطری حقیقتوں پر مبنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فطری تقاضوں کو قانونی صورت دینے ہی کا دوسرا نام شریعت ہے۔ عورت کے بارے میں اسلام کی تعلیمات بھی اسی بنیادی اصول پر مبنی ہیں۔ نفسیات اور حیاتیات اور عضویات میں موجودہ زمانہ میں جو تحقیقات ہوئی ہیں وہ ثابت کرتی ہیں کہ مرد کے مقابلہ میں عورتیں فطری طور پر منفعل مزاج ہوتی ہیں۔ مخصوص معاشرتی مصالح کی بنا پر خالق نے اس کو نسبتاً نازک پیدا کیا ہے۔ یہی وہ فطری حقیقت ہے جس کی رعایت اسلامی تعلیمات میں رکھی گئی ہے۔ اس بنا پر اسلامی شریعت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ عورتوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کرو تا کہ وہ بے حوصلہ نہ ہوں، تا کہ وہ دل شکنی سے محفوظ رہیں اور زندگی میں اپنے مخصوص فرائض کو بخوبی طور پر ادا کر سکیں۔ عورتیں لوہے کی مانند نہیں ہیں کہ ان پر جھونک پیٹ کا کوئی اثر نہ پڑے، وہ پسلی کی مانند ہیں۔ وہ فطرتاً جیسی ہیں ویسی ہی انھیں رہنے دو۔ اگر تم ان کے ساتھ لوہے جیسا برتاؤ کرو گے تو تم ان کی شخصیت کو توڑ دو گے۔ چیف جسٹس کا ریمارک محمد احمد - شاہ بانو کیس ( کریمنل اپیل نمبر 103 - 1981 - مورخہ 23 اپریل 1985) میں فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس وائی۔ وی۔ چندرا چوڑ نے ایک خصوصی نوٹ لکھا ہے۔ اس نوٹ میں وہ کہتے ہیں کہ عام دیوانی اور فوجداری قانون کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page