چیف جسٹس کا ریمارک
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
تحت کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں یہ سماج کے ایک بڑے حصہ کے لیے دور رس اہمیت کے حامل ہیں جو کہ روایتی طور پر غیر منصفانہ سلوک کا شکار رہا ہے۔ عورتیں اسی قسم کا ایک حصہ ہیں۔ قانون ساز منو نے کہا کہ عورت آزادی کی مستحق نہیں ہے۔ اور اسلام پر یہ الزام ہے کہ اس کا ایک تباہ کن پہلو عورت کو کمتر درجہ دینا ہے۔ پیغمبر اسلام کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے، امید افزا طور پر غلطی سے، کہ عورت ایک ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی ۔ اس لیے تم اپنی بیویوں سے نرم سلوک کرو: واضح ہو کہ چیف جسٹس صاحب کی مذکورہ عبارت میں ”امید افزا طور پر غلطی سے“ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ موصوف کے نزدیک پیغمبر کی طرف اس قول کو منسوب کرنا غلط ہے۔ ان کا مطلب یہ کہ پیغمبر نے اگرچہ یہ کہا ہے کہ عورت ”ٹیڑھی پسلی“ سے پیدا کی گئی ہے۔ مگر جولوگ عورت اور مرد کے درمیان برابری قائم کرنا چاہتے ہیں ، ان کو اس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ ہمارے لیے امید کا پہلو یہ ہے کہ پیغمبر کا یہ ارشاد بطور واقعہ درست نہیں ۔ چیف جسٹس کے اس فقرہ کا مقصد ”بیان“ کی تردید ہے، نہ کہ خود ”انتساب“ کی تردید۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader